ہندوستان اردو ٹائمز

نتیش حکومت کے دعوؤں کے برخلاف، زہریلی شراب کی وجہ سے لگاتار ہلاکتیں تشویشناک: سی پی آئی ایم ایل

کٹرہ میں زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار شراب مافیا اور انتظامیہ: آفتاب عالم

مظفرپور:21/فروری (پریس ریلیز )سی پی آئی ایم ایل ضلعی سکریٹری کرشن موہن اور انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم نے کٹرہ میں زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ کرشن موہن نے کہا ہے کہ بہار حکومت کے تمام دعوؤں کے برعکس ، کٹرہ اور بہار کے دیگر علاقوں میں زہریلی شراب کے باعث لگاتار موت انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت شراب مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریز کررہی ہے ، جس کی وجہ سے موت کا تکلیف دہ عمل جاری ہے۔ کٹرہ تھانہ حلقہ کے واقع درگاہ ٹولہ میں 48 گھنٹوں کے دوران چار غریب افراد سمیت 5 افراد کی ہلاکت کے سبب علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔لیکن انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ابتدائی طور پر انتظامیہ کا یہ بیان کہ ان کی موت زہریلی شراب سے نہیں بلکہ دیگر وجوہ سے ہوئی ہے جس سے بہت سارے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت بہار کٹرہ درگاہ اور شراب سے ہونے والی زہریلی موت کے معاملات کی اعلی سطحی عدالتی تحقیقات کا اعلان کرے۔
سی پی آئی ایم ایل کی جانچ ٹیم آفتاب عالم اور مکیش پاسوان کی سربراہی میں کٹرہ کے درگاہ گاؤں پہنچنے کے بعد اجے مانجھی ، رام چندر مانجھی ، منجو دیوی اور ونود مانجھی کے رشتہ داروں کی المناک موت سے متعلق معلومات حاصل کی۔ آفتاب عالم نے کہا کہ متوفی کے کنبہ کے افراد سمیت دیگر نے بتایا کہ یہ موت زہریلی شراب سے ہوئی ہے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ شراب مافیا سے ملی بھگت کے سبب انتظامیہ اس حادثہ کی پردہ پوشی کرنے میں مصروف ہے۔جو کہ بہت خطرناک ہے۔
سی پی آئی ایم ایل اور انصاف منچ نے نتیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لواحقین کو دس دس لاکھ روپے کا معاوضہ اور سرکاری نوکری دے۔مکیش پاسوان نے کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ناجائز شراب کا کاروبار شراب مافیا اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے چلائی جارہی ہے۔ حکومت بیان بازی کرنے کے بجائے شراب مافیا اور غیر ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ مشتبہ انتظامیہ اور سیاسی رہنماؤں کو بھی عدالتی جانچ پڑتال میں لایا جائے۔