بہار و سیمانچل

ایک با اخلاق انسان جو ہم سے جدا ہوگیا

✍️مولانا نظامالدینقاسمی صاحب راجوپٹی استاذ جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا مہاراشٹر

٢٠ جب/ستمبر ٢٠٢٠ء کو واٹس ایپ کے ذریعے حضرت مولانا امین اشرف صاحب قاسمی (بانی ادارہ دعوۃ الحق مادھوپور سیتامڑھی بہار) کے انتقال کی خبر ملی،بے حد صدمہ ہوا، اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے
مرحوم نہایت با اخلاق انسان تھے،میری سب سے پہلی ملاقات مولانا مرحوم سے ١٩٨٥ء میں مادھوپور مسجد میں ہوئی تھی جب ناچیز راجوپٹی سیتامڑھی سے جماعت میں مادھوپور پہنچا تھا،احقر اس وقت مظاہر علوم سہارنپور میں جلا لین کی جماعت میں زیرِ تعلیم تھا ۔
جماعت رونی سیدپور سے پیدل چل کر مادھوپور پہنچی تھی،جماعت کے امیر وصی صاحب مظفرپوری تھے ۔
آپ نے جماعت والوں کا بڑا اکرام کیا، رمضان المبارک کا مہینہ تھا،گرمی سخت تھی جماعت پیدل چل کر پہونچی تھی یاد پڑتا ہے مولانا مرحوم افطار پر جماعت کے احباب کو بار بار شربت روح افزا پیش کرتے جاتے اور کہتے جاتے اور پی لیجئے اور پی لیجئے۔
آپ کے والد محترم حاجی ابراہیم صاحب اس وقت با حیات تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی ،انہوں نے جماعت کے پہنچنے پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا ۔
سہ روزہ قیام کے بعد جب جماعت قریبی بستی رام کھتیاری پہنچی تو وہاں بھی آپ نے کھانا بھیجنے کا اہتمام فرمایا،اس سے ان کی جماعت کے احباب سے محبت کا اندازہ ہوتا ہےکہ کس قدر ان کو جماعت کے احباب سے محبت تھی،اللہ تعالیٰ ان کی اس محبت کو قبول فرمائے ۔
مرحوم سے دوسری ملاقات ٢٠١٨ء میں اس وقت ہوئی جب آپ نے بغرض امتحان ادارہ دعوۃ الحق میں مدعو فرمایا،وہاں جانے کے بعد احساس ہوا کہ آپ ایک بہترین متحرک وفعال منتظم ہی نہیں بلکہ بہترین مہندس بھی ہیں،آپ کی توجہ جس طرح تعلیم وتربیت پر تھی،ویسے ہی ادارہ کی تعمیر پر بھی تھی، وہاں کی ہر عمارت آپ ہی کی وضع کردہ ڈیزائننگ پر قائم ہے۔
اللہ تعالیٰ ادارہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔
(مولانا) نظام الدین قاسمی راجوپٹی سیتامڑھی
استاذ جامعہ اکل کوا مہاراشٹر
٢١/ستمبر ٢٠٢٠ء بروز پیر

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close