بہار و سیمانچل

اردو کے تئیں حکومت بہارکے متعصبانہ رویہ کے خلاف سہرسہ کے محبان اردو میں شدیدناراضگی

سنودھان بچاؤسنگھرش سمیتی کے زیراہتمام نتیش سرکار کے خلاف تحریک کاآغاز

سہرسہ(جعفر امام قاسمی) ریاست بہار میں اُردو کو بظاہر دوسری
سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن حکومت بہاردن بدن اُردو کے ساتھ جوسوتیلارویہ اپنارہی ہے،اس سے اردوداں طبقے میں شدیدناراضگی پائی جارہی ہے۔حال ہی میں حکومتِ بہار نے اسکولی تعلیم سے اردو کی لازمیت ختم کرکے اسے اختیاری مضمون بنا دیاہے۔یعنی اب جب اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری ہوگی تواردو،بنگلہ اورسنسکرت میں سے کسی ایک ہی زبان کے لیے استاذ کی تقرری ہوگی اورباقی دیگرسبجیکٹ ہندی،انگریزی،حساب،سائنس اورسوشل سائنس وغیرہ کے لیے پہلے کی طرح مستقل علیحدہ علیحدہ استاذ کی تقرری ہوگی۔وہیں اسکولوں میں اردوٹیچرکی تقرری کے لیے اب 40طلبہ کاہوناشرط ہے یعنی جس اسکول میں اردوپڑھنے والے 40طلبہ ہوں گے اسی اسکول میں اردوٹیچربحال کیاجائے گا۔اردوزبان کے ساتھ حکومت بہارکے اس تعصبانہ رویے کے خلاف محبان اردوکے اندر شدیدغم وغصہ پایاجارہاہے۔بہارکے ہرضلع کے اندرمحبان اردوسراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں اورحکومت کی اس گندی پالیسی کے خلاف ایک منظم تحریک چھیڑدی ہے۔سہرسہ ضلع کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کی فعال سماجی تنظیم سنودھان بچاؤسنگھرش سمیتی نے بھی اردوکے تئیں حکومت کے سوتیلے رویے کے خلاف آج سے تحریک چھیڑدی ہے،جس کاآغازسب ڈویزن کے تریاواں گاؤں کے عیدگاہ چوک سے کیاگیا۔اس موقع پر سمیتی کے فعال رکن،سماجی کارکن وصحافی شاہنوازبدرقاسمی،سینیئر صحافی افضل ندیم،مدرسہ اسلامیہ تریاواں کے صدرمدرس مولاناافسرامام قاسمی،حافظ نیرمتین،قیصرعلی عرف ببلو،فاخرامام،ماسٹرمسلم وغیرہ نے اردوکے ساتھ تعصب بندکرو،اردوکی لازمیت بحال کرو،نتیش کمارہوش میں آؤ،اردوکے ساتھ ناانصافی بندکروجیسے نعروں پرمشتمل تختیاں اپنے ہاتھوں میں لے کراردوکے ساتھ کی گئی ناانصافی کے خلاف اپنااحتجاج درج کرایا،اس موقع پرشہنوازبدرنے کہاکہ پہلے اردو اور فارسی کے اساتذہ اسکول ، کالج و یونیورسٹی میں ہوتے تھے،بڑی چالاکی سے اسکولوں سے فارسی کو نکال دیا گیا اور اب حکومت نےنہایت چالاکی سے اردو کو لازمی مضامین سے ہٹا کر اس کو دیگر زبانوں کے خانے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے ساتھ بہت ہی غیر منصفانہ سلوک ہے۔انہوں نے کہاکہ اب جب کہ اردو کے خاتمے کے لیے پوراحکومتی عملہ سرگرم عمل ہے تو اردو استاذ کی تقرری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے ۔اس لیے اردو سے محبت کرنے والوں اورتمام ملی و سماجی اداروں سے ہماری اپیل ہے کہ وہ اردو کے حق کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں اور مضبوط طریقہ سے حکومت سے مطالبہ کریں کہ اردو کو اس کا حق دیا جائے اور اس کے ساتھ سوتیلا سلوک بند کیا جائے،نیز اس نئے ضابطے کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔وہیں صحافی افضل ندیم نے کہاکہ ریاست بہار کے ہائی اسکولوں سے اردو کی لازمیت کو ختم کر کے اس کو اختیاری مضمون کے خانے میں ڈال دینا ، اسکولوں سے اردو کو ختم کرنے کی ایک منظم سازش ہے ۔ اس سے نہ صرف اردو کو نقصان ہو گا ، بلکہ اردو آبادی کے لیے روزگار کے سنہرے مواقع بھی ختم ہو جائیں گے ۔وہیں مولاناافسرامام قاسمی نے کہاکہ اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے ، اس اعتبار سے اس کا حق ہے کہ اس کو لازمی مضمون کا درجہ دیا جائے نہ کہ اس کو اختیاری مضامین کے خانے میں ڈال کر اس کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا جائے۔اس لیے اردوسے دلچسپی رکھنے والوں سے ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ کم ازکم اپنے اپنے گاؤں میں دوچارمحبین اردوکوجمع کراسی طرح کی تختیاں اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر اردوکے حقوق کے لیے اپنااحتجاج درج کرائیں اورسوشل میڈیاکے ذریعے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچائیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close