بہار و سیمانچل

شب برات کی رات کو خرافات میں گزارنا بڑی محرومی کی بات ہے: مولاناافضل ندوی

سمستی پور ( محمد سلطان اختر) نصف شعبان کی رات یعنی 14 شعبان کا دن گزارنے کے بعد جو رات آتی ہے اس رات کی بڑی فضیلت ہےاور یہ رات ملت اسلامیہ کو ہر سال نصیب ہوتی ہے یہ باتیں الھدیٰ اردو لائبریری چکپہاڑ کے ناظم نوجوان عالم دین مولانا محمد افضل ندوی نے کہیں انہوں نے کہا کہ شعبان کی اس پندرہویں رات میں لوگوں کا رزق اور اس سال حج کرنے والوں کے نام درج کئے جاتے ہیں. اور مرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں اس رات بہت سارے گنہگاروں کے گناہوں کو معاف کیا جاتا ہے جو اس رات کو عبادت میں گزارتے ہیں ان کو عذاب الہی سے چھٹکارا یعنی رہائی ملتی ہے اس لئے اس رات کا نام شب برات ہے عربی میں برات کے معنی رہائی اور چھٹکارا کے ہیں یعنی یہ رات رہائی اور چھٹکارا کی رات ہیں اس رات میں حق تعالی کی رحمتیں بہت زیادہ اترتی ہیں اس رات کو گناہ میں گزارنا بڑی محرومی کی بات ہے.انہوں نے کہا کہ
اس رات میں ہمیں چند غیر اسلامی رسومات سے بچنا بہت ضروری ہے. اس رات حلوا پکانا آتش بازی کرنا مسجد و محلہ اور قبرستان کو چراغاں کرنا عورتوں کا قبرستان میں جمع ہونا اور موجودہ دور میں ہمارے مسلم نوجوانوں سے جو خرافات سرزد ہوتے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ اس وقت اللہ تعالی کا غضب پوری انسانیت پر خاص طور سے ہمارے ملک میں جو ظاہر ہو رہے ہیں اس کے مد نظر پوری امت مسلمہ کو خرافات سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے اصل دین کی طرف مائل ہونا چاہیے اور اپنے اہل و عیال دوست و احباب کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنا چاہیئے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close