بہار و سیمانچل

کسان مخالف سیاہ قوانیں کے منسوخی کے مطالبہ کولیکر بایاں بازو نے احتجاجی مارچ نکالا

کسانوں کی یہ تاریخی تحریک ملک میں جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے جاری رہے گا:ظفر اعظم

مظفر پور:02/دسمبر(پریس ریلیز ) زرعی قوانین کے خلاف بائیں بازو کی جماعتوں کے ریاست گیر کال کے تحت بائیں بازو کی جماعتوں نے مظفرپور میں بھی زبردست احتجاجی مارچ نکالا، مارچ پانی ٹنکی چوک سے نکلا اور شہر کی اہم سڑکوں سے ہوتا ہوا کلیانی چوک پہنچا اور اجلاس میں تبدیل ہو گیا۔ اس دوران زور شور سے نعرہ بازی کرتے ہوئے کسان مخالف تین کالے قوانین واپس لو، پورے ملک میں فصل کی کم سے کم سپورٹ قیمت کی گارنٹی قانون کو منظور کرنے ، کسانوں کی تحریک پر دباؤ اور دھوکہ دہی کو روکنے اور ملک کی سرکاری املاک کو کارپوریٹ کمپنیوں میں منتقل کرنے پر روک لگانے کامطالبہ کیا گیا۔ احتجاجی مارچ میں سی پی آئی-ایم ایل ، سی پی آئی ، سی پی ایم ، سی پی آئی (ایم ایل) نیو ڈیموکریسی ، ایم سی پی آئی (یو) ، سی پی آئی (ایم ایل) کلاس جدوجہد ، انفاف منچ، طلبہ تنظیم آئیسا، اے آئی ایس ایف کے کارکنان اور حمایتی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ مارچ میں حصہ لینے والے سی پی آئی کے ریاستی ایگزیکٹو ممبر اجے کمار سنگھ،انصاف منچ بہار کے ریاستی صدرسورج کمار سنگھ ،انصاف منچ کے ریاستی ترجمان اسلم رحمانی، سی پی آئی ایم ایل کے رہمنا پروفیسر اروند کمارڈے، سی پی آئی-ایم کے ضلعی سکریٹری عبد الغفار ، سی پی آئی کے ضلعی سکریٹری رام کِشور جھا ، سی پی آئی (ایم ایل) نیو ڈیموکریسی کے رہنما رام ویکش رام ، اور ایم پی پی آئی (یو) وبھاکر تیواری ، نیرج کمار ، سی پی آئی (ایم ایل) کلاس جدوجہد کے ضلعی سکریٹری اودئے چودھری ، انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر ظفر اعظم ، ضلعی صدر فہد زمان، نمیتا سنگھ ، کمینی کماری شامل تھیں۔اس دوران سورج کمار نے کہا کہ مودی سرکار کسانوں سے جنگ لڑی ہے۔ کالے قوانین کے خلاف مشتعل کسانوں سے سنجیدہ بات چیت کرنے کی بجائے ، تحریک اور کسان تحریک کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ لیکن ملک کے عوام کسانوں کے دھوکہ دہی یا کسی بھی طرح کے جبر کے خلاف متحد ہیں۔ کسانوں کی تحریک سے پورا ملک متحد ہے۔ظفر اعظم نے کہا کہ کسانوں کی یہ تاریخی تحریک ملک میں جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے بھی جاری ہے۔ مودی سرکار نے جس انداز میں کسانوں کی تحریک سے نمٹا اور انہیں دہلی جانے سے روکنے کی کوشش کی وہ براہ راست جمہوری حقوق کا قتل ہے۔ کارکنوں طلباء اور نوجوانوں اور خواتین کی نقل و حرکت کے ساتھ مودی سرکار ایک جابرانہ انداز اپنائے ہوئے ہے۔فہد زماں نے کہا کہ آج ملک کے عوام کو کسان تحریک کے حق میں جمہوری حقوق کے تحفظ کے لئے متحرک ہونا چاہئے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close