بہار و سیمانچل

دربھنگہ : یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور طلبۂ مدراس.مولانا ارشد ندوی

دربھنگہ 14ستمبر(ممتازاحمدحذیفہ)یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا(افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی)حصول علم کا فائدہ علم حاصل کرنے والے کی پاکیزہ نیت پر منحصر ہے اگر علم کے حصول کا مقصد کا پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بنانے کیلئے ہوگا تو وہ ملت اور معاشرے کیلئے مفید تو ہونا دور بسا اوقات نقصاندہ اور مضر بھی ہوتا لہذا مذکورہ شعر میں اشارہ ہیکہ تعلیمی اداروں کو پاکیزہ اور تربیت کے اعتبار سے نرالا ہونا چاہیے ذرا سی اس تمہید کے بعد آئ یو .پی .ایس .سی .پر گفتگو کرتے ہیں آج سے چالیس پچاس سال قبل اور موجودہ بھارت میں کافی فرق نظر آتا ہے ساتھ ہی موجودہ صورتحال کے آ ئنہ مستقبل کے بھارت کو دیکھا جائے تو وہ اور بھی پر خطر اور چیلنجوں سے وابستہ نظر آتا ہے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے لئے یہ سر زمین ہندوستان تنگ ہوتی نظر آ تی ہے اور اسپین کا منظر نگاہوں کے سامنے گھومتا نظر آتا ہے۔بھارت پھر جنت بن جائے اور اندلس کی تاریخ نہ دوہرا سکے اسکلیے ایک مظبوط اور مستحکم اقدام کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ ناگزیر ہے مگر لائحہ عمل کیا ہو کیا سیاست ضروری ہے کیا تجارت کیا کمپنیوں کا قیام عمل یہ بھی ضروری ہیں مگر میں تاریخ نبوی کے مطالعہ کی روشنی میں سمجھتا ہوں کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کو تعلیم کی طرف متوجہ ہونا چاہئے جس سے مسلمان آج بہت پیچھے ہوتا جا رہا ہے اور وہی اس ملت کی پریشانی و ذلت و رسوائی کا بنیادی سبب ہے.علامہ اقبال علیہ الرحمۃ کا شعر یاد اگیا کہ(افسوس وہی قوم ہے آج بیذار تعلم) (اقرأکا سبق جسکو ملا غار حرا سے) یہ راہ یعنی حصول تعلیم کی راہ ملت کیلئے ترق پذیر ثابت ہوگی مگر یہ خیال رہے کہ ملت چند ہونہار نوجوان تو صرف اعلی تعلیم کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر دیں اور اس مقام تک پہنچنے سے قبل بیٹھنے کا نام نہ لیں جہاں سے وہ فیصلے لے سکتے ہوں فیصلے فولادی اور انقلابی ہوں نہ کہ کمزور اور غیر مستحکم ایسے مسافر کیلئے ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا کہ (تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول(لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول)
کیونکہ موجودہ ہندوستان اور اسکے انتظامی سسٹم میں وزراء اور ایم ایل ایز اور ایم پیز کی حیثیت تو ایک اعلان کرنے والے اور سنانے والے کی ہے. پالیسی سازی اور اسکا نفاذ تو بیورو کریسی کے ہاتھوں میں ہوتاہے لہذا ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو چاہیے کہ تعلیم کے میدان میں قدم رکھیں اور اعلی تعلیم حاصل کر کے پالیسی ساز بننے کی کوشش کریں واضح رہے کہ اس مقام تک پہنچنے کیلئے مسلم طلبہ کو اخلاص اور جزبہ قربانی سے وابستہ ہونا پڑیگا کیونکہ مقابلہ جاتی امتحانات کی راہیں اتنی آسان نہیں ہوتیں
مگر یہ شعر ہمیشہ یاد رکھا جائے کہ۔ڈاکٹرنوازدیوبندی نے کہا کہ منزل پہ نہ پہونچے اسے راستہ نہیں کہتےدو چار قدم چلنے کو چلنا نہیں کہتے۔ایک سوالیہ بات کروں تو یہ کہ کیا مسلم طلبہ یو پی ایس سی ۔آئ ایس نہیں نکال پاتے ہیں تو اسکا جواب مثبت ہوگا مگر۔وہ غیر اسلامی ماحول کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں جسکی انکی نگاہوں پر شکم پروری کا پردہ حائل ہوتا ہے اور انکے قدموں میں مال ودولت کی بیڑیاں جکڑی ہوتی ہیں جسکے سبب وہ نہ ملت کے کام اتے ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کے مستقبل سے انہیں پیار ہوتا ہے اور نہ حرص و ہوس کی اس زنجیر کو توڑ کر ملت اسلامیہ کے مفاد میں کچھ کر پاتے ہیں۔ملت اسلامیہ کو وہی طالبعلم نفع پہنچا سکتا ہے جو سیرت نبوی .اور حیات صحابہ .اور اسلاف کی تاریخ اور انکی بے شمار قربانیوں سے واقف ہو اور زمانہ کا شناسا ہو۔مذکورہ تفصیل کے پیش نظر راقم کا مشورہ یہ ہیکہ تعلیمی میدان میں تمام متحرک تنظیمیں ایک نظام کو بنائیں جسکے زیر نگرانی وطن عزیز کے بڑے بڑے مدارس مکاتب جامعات و کلیات اور خانقاہوں سے ذہین اور ہونہار حافظ قرآن طالبان علوم نبوت کا انتخاب کریں جنکے اندر پڑھنے کے ساتھ اعلی مقام تک اور ساتھ ہی پالیسی ساز بننے کا جزبۂ اتم موجود ہو تو ایسے بچوں کے انتخاب کے بعد شروع سے ہی انکا مزاج یہ بنا دیا جاے کہ انکو یو پی ایس سی یا آئ ایس کلئے تیار رہنا ہے اوراسی حساب سے انکے تعلیم وتعلم کا انتظام کیا جائے مثلا عربی کے ساتھ انگریزی زبان کی طرف بھی توجہ دلائی جائے وقتا فوقتاً رہنمائی کیلئے ملاقات کی جاے کتاب سے لیکر ورزش تک انتظام ہو مناقشہ ومکالمہ کا نظم ہو اور یہ سارے کام مدارس کے باصلاحیت اساتذہ اور ملک مے ممتاز یونیورسٹیوں پروفیسر حضرات کی نگرانی میں کیے جائیں۔دوسرا مرحلہ شفوی ٹسٹ کا ہو جسمیں خاص طور پر قوت یادداشت اور قوت برداشت اور حالات کے فہم وکنٹرول کی صلاحیت کو جانچنے کیلئے ہواور اخیر میں سب سے اہم اور مذکورہ تمام تفصیلات کا نچوڑ یہ ہیکہ منتخب طالبان علوم نبوت کے قیام و طعام کا سارا انتظام مدرسہ میں ہی ہو تاکہ کلاس کی پابندی سے لیکر صوم صلاۃ کی پابندی میں دشواری نہ ہو اور کبھی کبھی دنیا اور دیش کی بڑی بڑی عصری درسگاہوں کا سیر بھی کرایا جائے۔ اگر اس نہج پر کا ہو تو میں امید کرتا ہوں کہ ملت اسلامیہ کی تقدیر سنور جائیگی اور انقلاب آ جیگا انشاءاللہ.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close