بہار و سیمانچل

بوکھرا بلوک کا بھرون گاؤں پوری طرح سیلاب کی زد میں ہے نہیں پہنچ رہی کوئی سرکاری مدد

بوکھرا بلوک کا بھرون گاؤں پوری طرح سیلاب کی زد میں ہے نہیں پہنچ رہی کوئی سرکاری مدد،باجپٹی چھتر و مہسو تھا پنچایت وارڈ نمبر ۱۳کا یہ بھرون گاؤں پوری طرح سیلاب سےمتاثر ہے

بہار (محمد شارق رحمانی بھرونوی )گاؤں کی آبادی تقریباً ۱۰۰ گھر سے زائد ہے اور یہ دو حصوں میں تقسیمِ ہے پچھم اور پورب دو حصوں میں بسے اس چھوٹے سے بھرون گاؤں کے پچھم اور پورب کے درمیان اِک ناسی ہے جو ہر سال بارش کے موسم سیلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس سے گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے خاص کر پچھم کی طرف رہنے والے لوگوں کا گاؤں سے تعلق پوری طرح کٹ جاتا ہے لوگ پانی سے بھرے ناسی کو جان پہ کھیل کر پار کرتے ہیں ناسی کافی بڑی ہے اُسکا تعلق نیپال سے آنے والی دامودر ندی سے ہے نشیبی علاقہ کا ندی سے تعلق ہونے کی وجہ سے ناسی کا پانی تیزی سے علاقوں میں پھیل جاتا ہے جِس سے پچھم کی جانب رہنے والے گرامین کے گھروں میں پانی گھس جاتا ہے جِس سے ہر سال لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے چھوٹی سی آبادی والا یہ بھرون گاؤں آس پاس کے تمام علاقوں میں سے نچلا علاقہ ہے نیچا علاقہ ہونے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے گاؤں کی سڑکیں کچی ہے بارش کے موسم میں پیدل چلنا پھرنا
بھی محال ہو جاتا ہے فی الحال گاؤں ابھی سیلاب سے جوج رہا ہے سرکاری نہ کوئی مدد پہنچی ہے ان تک نہ کوئی سرکار کا نمائندہ علاقے کے مکھیا ووٹ کے زمانے میں ہزاروں وعدیں کر کے چلے جاتے ہیں پھر صاحب نہ تو اُنھیں کوئی گاؤں یاد ہوتا ہے نہ وہ ہاتھ جوڑتے لوگ کئی سال تک وعدوں کا نتیجہ یہ ہے کہ گاؤں کی مین سڑک ابھی تک کچی ہے اور صاحب ابھی تک وعدہ گنانے میں ہی لگے ہیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close