بہار و سیمانچل

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی :- مولانا نعمان اختر فائق

نوادہ (پریس ریلیز) تنظیم علمائے حق ضلع نوادہ کے سرپرست حضرت علامہ نعمان اختر فائق جمالی مہتمم دارالعلوم فیض الباری نوادہ و صدر ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار،اورتنظیم کے صدر مولانا محمد جہانگیر عالم مہجورالقادری نے ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کر کے کہا کہ مگدھ کمشنری کے صدر ادارہ شرعیہ،عظیم مفکر،نمونہ سلف،ملک گیر شہرت کے حامل خطیب جامعہ برکات منصور شہر گیا کے بانی و سربراہ حضرت علامہ سید اقبال احمد حسنی برکاتی کے انتقال پہ گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا علامہ سید اقبال احمد حسنی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں گونا گوں خوبیوں سے نوازا تھا مولانا موصوف نے اپنی پوری زندگی اسلام و سنیت کی تبلیغ اور دین متین کی ترویج و اشاعت میں گذاردی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا موصوف علیہ الرحمہ نے اپنی جوانی کے ایام جنوبی بہار کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم فیض الباری نوادہ میں عرصہ دراز تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اس وقت مولانا موصوف کو خطابت میں اتنی ملکہ حاصل نہیں تھا ان دنوں میں دارالعلوم فیض الباری نوادہ کے بانی و مہتمم استاذ العلماء وقار ملت ہیر طریقت حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ جمال احمد قادری علیہ الرحمہ نے علامہ سید اقبال احمد حسنی علیہ الرحمہ کو ہر چھوٹے بڑے تقریری پروگرام میں ساتھ لے کے چلا کرتے تھے

 

جمال العلماء وقار ملت کا یہی فیضان آگے چل کر سید اقبال احمد حسنی کو مفکر ملت اور خطیبِ اسلام بنادیا دارالعلوم فیض الباری نوادہ سے انہوں نے یہ کہہ کے رخصت چاہی کہ شہر گیا میں منسلک اہل سنّت کا ایک معیاری ادارہ ہونا چاہئے پھر مولانا موصوف نے گیا شہر کے قلب میں واقع سراج السالکین حضرت سید شاہ پیر منصور شہید علیہ الرحمہ والرضوان کے آستانہ سے متصل ہیر منصور مسجد میں "جامعہ برکات منصور”کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم فرمایا جسے علامہ علیہ الرحمہ نے بڑی محنت و جانفشانی کے ساتھ آگے بڑھایا اور بہت جلد ہی "جامعہ برکات منصور” کا شمار ملک کے اہم اور معیاری اداروں میں ہونے لگا جب سے مگدھ کمشنری ارادہ شرعیہ کا ان کو صدر بنایا گیا مگدھ ڈویژن میں مرحوم نے مسلک اہلسنت کا کام زمینی سطح سے لے کر بڑی سے بڑی تحریک کو صد فیصد کامیاب بنانے میں اہم کردار نبھایا

آج کی صبح کا سورج دل کو ہلادینے والی خبر لے کر طلوع ہوا جیسے ہی یہ خبر ملی کہ "مولانا سید اقبال احمد حسنی” نہیں رہے اس خبر پہ دل یقین کرنے پہ آمادہ نہیں ہورہا تھا مگر چار و ناچار ماننا پڑا اود دل مضطرب کو کسی طرح سمجھایا اور یہ بھی عجیب اتفاق کہ ایک طرف پٹنہ میں مولانا موصوف کے سگے بھائی اُردو کے مشہور صحافی سید خورشید ہاشمی رات کے قریب 11:00 بجے انتقال کرگئے تو دوسری طرف مولانا سید اقبال احمد حسنی نے بوقتِ سحر قریب 3:00 بجے داعی اجل کو لبیک کہا یعنی ایک ہی رات میں دو بھائیوں کا جدا ہوجانا بہت بڑے صدمے کی بات ہےدارالعلوم فیض الباری نوادہ میں حضرت علامہ مولانا سید اقبال احمد حسنی علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب کی مجلس کا اہتمام کیا گیا جس میں دارالعلوم کے اساتذہ و طلباء نے شرکت کی اور دارالعلوم فیض الباری نوادہ کے مہتمم حضرت علامہ نعمان اختر فائق جمالی نے مولانا سید اقبال بے احمد حسنی علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات پہ روشنی ڈالی بعدہ ان کے درجات کی بلندی اور ان کے جملہ لواحقین،متوسلین اور پسماندگان کے لئے صبرِ جمیل کی دعاء کی گئی اور مولانا نعمان اختر فائق نے مزید کہا کہ علامہ سید اقبال احمد حسنی کے انتقال سے دنیائے سنیت میں جو خلاء پیدا ہوا اس کا پر ہونا مشکل نظر آرہا ہے اورہرچلنےوالی تحریک میں ان کی یاد آتی رہے گی اور ہر قدم پہ ان کی کمی محسوس کی جائے گی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close