بہار و سیمانچل

عید کو بڑی سادگی کے ساتھ منائیں اور غرباء و مساکین کا خاص خیال رکھیں۔مولانا صادق قاسمی

نمازِ عید الفطر کی ادائیگی سے پہلے صدقہ فطر ضرور ادا کریں:قاری شعیب مظاہری

پورنیہ : ۲۲/مئی(صادق قاسمی)اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک کورونا وائرس مہاماری کی چپیٹ میں ہے، اس عالمی وبا نے بیشتر ممالک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔خاص طور پر ہمارے ملک ہندوستان میں اس وبائی مرض سے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں، جن میں خصوصیت کے ساتھ معاشی بدحالی قابلِ ذکر ہے، ہمارے یہاں ایک بڑا طبقہ مزدور پیشہ اور ان غریبوں کا ہے جن کا گزر بسر یومیہ مزدوری پر منحصر ہے اس موقع پر جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ کے نائب صدر مولانا صادق قاسمی نے کہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ بڑی تیزی کے ساتھ ہم سے رخصت ہو رہا ہے اور کچھ ہی دنوں میں رب کائنات کا خصوصی انعام و اکرام کا دروازہ بند ہو جائے گا اور عام دنوں کی طرح رحمت و مغفرت کا سلسلہ جاری رہے گا، رمضان المبارک کا آخری عشرہ کی پانچ طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش و جستجو کا حکم دیا گیا ہے، شبِ قدر نہایت عظمت و مقبولیت کی مقدس رات ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے، اس میں انتیسویں رات باقی ہے جو آج کی رات ہے۔ قابلِ صد مبارک باد ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس کے ہر لمحہ کی قدر کی اور اپنا ٹھکانہ جنت میں بنا لیا۔لہذا اس موقع پر آپ سبھی حضرات سے درد مندانہ اپیل کرتا ہوں کہ اسراف اور فضول خرچی سے خود بھی بچیں اور ہمارے دوسرے بھائیوں کو بھی اس جانب متوجہ کریں، خاص کر امسال عیدالفطر سادگی کے ساتھ منائیں اور موجودہ کپڑوں میں ہی نمازِ عید ادا کریں اور مستقبل کو پیش نظر رکھیں تاکہ عین وقت پر ممکنہ پریشانیوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ مدرسہ ستاریہ تحفیظ القرآن کھپڑہ بائسی ضلع پورنیہ کے بانی و مہتمم مولانا و قاری شعیب صاحب مظاہری نے

کہا کہ عید کی آمد آمد ہے جو ایک مقدس اسلامی تہوار ہے اور سال میں ایک ہی بار آتا ہے، اور سبھی مسلمان اس کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور بڑی خوشی سے مناتے ہیں لیکن امسال عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ملکوں کے ساتھ ہمارا ملک ہندوستان بھی لاک ڈاؤن کی چپیٹ میں ہے۔ایسے نازک وقت میں مسلمان نمازِ عید کس طرح ادا کریں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ امسال عید انتہائی سادگی سے منائی جائے، خاص طور پر میں اپنی ماں بہنوں سے گزارش کرونگا کہ خدا کے واسطے آپ عید کی خریداری کے لئے کپڑے وغیرہ کی مارکیٹ کا ہرگز رخ نہ کریں،گوڈی میڈیا پوری طرح سے اس انتظار میں ہے کہ آپ گھروں سے نکلیں اور وہ آپ کا ویڈیو بنا کر آپ کی مسلم برادری کو بدنام کرنا شروع کر دیں کہ مسلمانوں نے لاک ڈاؤن پر عمل نہیں کرتے ہوئے اور شوسل ڈسٹنسنگ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کورونا وائرس کو جنم دے رہے ہیں۔

قاری صاحب نے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒؒکے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود اپنے لڑکوں کو پرانے کپڑے میں ہی عید منانے کے لئے کہہ رہے ہیں، جبکہ وہ خلیفہ تھے اگر چاہتے تو قیمتی سے قیمتی لباس اپنے اہل و عیال کے لئے خرید سکتے تھے، لیکن غریبوں کی دلجوئی کی خاطر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ لہذا اگر ہم بھی امسال عید کے موقع سے کپڑوں وغیرہ کی خریداری سے گریز کریں اور ان پیسوں سے غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں تو رب کائنات ہم سے بے انتہا خوش ہوگا اور اس طرح سے ہم بدنامی سے بھی بچ جائیں گے۔ جہاں تک عید کی نماز کا سوال ہے تو اب چونکہ لاک ڈاؤن۔ 4 کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور یہ 31/مئی تک چلے گا۔ لہذا جس طرح فی الحال مسجدوں میں پنج وقتہ نمازیں اور نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی ہے ایسے ہی نمازِ عید بھی گھروں میں ہی ادا کی جائے اور اگر نمازِ عید کی اہلیت نہیں رکھتے ہوں تو پھر چار رکعت یا دو رکعت چاشت کی نماز گھر پر ہی پڑھ لیں اور عید کے دن لاک ڈاؤن کا خیال رکھتے ہوئے شریعت کے دائرے میں عید کی خوشی کا اظہار کریں۔ اور عید کی نماز سے فراغت کے بعد مصافحہ اور معانقہ سے اجتناب کریں، اسی طرح کسی کے یہاں جانے اور آنے سے بھی اجتناب کریں۔ باقی دعا و سلام اور عید کی مبارکباد فون کے ذریعہ دیں اور اپنے عزیز و اقارب اور احباب و متعلقین سے ملنے میں طبی ہدایات کا مکمل خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ صدقہ فطر 35 روپے فی کس ادا کریں، رمضان المبارک میں ہر نیک عمل کا ثواب 70 گنا ملتا ہے اس مبارک مہینے کی قدر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کریں اور بارگاہِ الہٰی میں دعا کریں کہ یہ مبارک مہینہ ہمیں پھر سے نصیب فرمائے اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عید کو سادگی سے منائیں اور اس مہلک بیماری کورونا وائرس سے نجات کی خصوصی دعا کریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close