بہار و سیمانچل

اساتذہ کے تئیں حکومت بہار کا رویہ ظالمانہ : مرغوب صدری علیگ

نوادہ (محمد سلطان اختر) بہار کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ کنٹریکٹ اساتذہ 17 فروری سے یکساں کام کے بدلے یکساں تنخواہ کی مطالبات کی حمایت میں غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال میں ہیں لیکن اسی دوران ہندوستان میں کورونا جیسی مہلک وبا کے پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کی تدابیر اختیار کیا گیا جس کے سبب اسکولوں کو بند ہو جانے کی وجہ سے ہڑتال بے معنی ہو کر رہ گئی جس سے بہار کے اساتذہ معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں اساتذہ کی تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان خیالات کا اظہار سر سید لائبریری کے ڈائریکٹر مرغوب صدری علیگ نے کیا انہوں نے کہا کہ اس مشکل حالات میں حکومت بہار اور وزیر تعلیم اساتذہ یونین کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے کورونا مرض کے نام پر سیاست کر انکے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے وزیر تعلیم کا یہ رویہ ظالمانہ ہے انہوں نے کہا کہ بہار میں جب بھی قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے ایسے وقت میں اساتذہ حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر سماجی خدمات انجام دیتے رہے ہیں مسٹر صدری نے کہا کہ اس دوران بہار میں بیالیس اساتذہ مالی مشکلات اور دیگر وجوہات کی بنا پر لقمہ اجل کا شکار ہو چکے ہیں پھر بھی حکومت کا رویہ اساتذہ مخالف ہے جو افسوسناک ہے مسٹر صدری نے کہا کہ جب تک حکومت بہار ان جائز مطالبات کے حق میں فیصلہ نہیں لیتی ہے ہڑتال جاری رہے گا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close