بہار و سیمانچل

جموئی ضلع ہندوستان ہندی کے نمائندے پر غلط خبر شائع کرنے کا الزام

جموئی ( محمد سلطان اختر) جموئی ضلع کے تحت علی گنج بلاک کے خانقاہ دھرم پور میں ہندوستان ہندی پیپر کے نمائندے نے غلط خبریں شائع کرکے لوگوں میں دہشت پھیلانے کا کام کیا ہے، جو قابل مذمت ہے اس کی پرزور مخالفت کی جا رہی ہے ہمارے نمائندے نے اس سلسلے میں جموئی پولیس کپتان ڈاکٹر انعام الحق اور عامر سبحانی صاحب سے بات کرکے اس معاملے کو ان کے علم دیا تاکہ کسی طرح کا خلفشار نہ ہو، اس سے قبل بھی بے بنیاد طریقے سے خانقاہ کے لوگوں کو پریشان کرنے کا کام کیا ہے، اس وقت جس طرح سے مدرسہ کے گیٹ پر اعلان چسپاں ہے،وہ 16 مارچ کی تعطیل کا اعلان ہے 16 مارچ کو ہی چھٹی دے دی گئی تھی لیکن بچوں کی چھٹی ہوگئی تھی،مگر اساتذہ کی چھٹی نہیں ہوئی ،ان استاذہ کے ساتھ چند بچے روک گئے،اور اساتذہ جنتا کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے پھنس کر رہ گئے،جنتا کرفیو کی مدت 31 مارچ بڑھا اسی طرح 14 اپریل تک بڑھ گیا،
اساتذہ کے ساتھ چند بچے جو گنتی کے اعتبار سے چھ بچے ہیں اور مدرس مدرسہ میں پڑھانے والے عملہ چھ کل ملاکر بارہ لوگ ہیں، اسکو پروپیگنڈا پھیلاتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہاں دلّی مرکز سے لوگ آتے ہیں،اور گاڑی کا آمد و رفت ہر وقت لگا رہتا اور تعمیری کام لگا ہوا ہے،جبکہ یہ ساری باتیں بے بنیاد ہے جھوٹ پر مبنی ہے،ہمارے نمائندے سے ملاقات کے دوران قاری اشرف صاحب نے بتایا،جو اس خانقاہ کے بیس سال پرانے استاد ہیں، انہوں نے بتایا کہ تعمیری کام لوک ڈاؤن سے قبل ہی ہوا ہے،لوک ڈاؤن کے بعد تعمیری کام کی چرچا بے بنیاد ہے،اس بات کی دور دور تک کوئی تصدیق نہیں ہو پائی، ہندوستان ہندی نمائندہ اور کشوری یادو نے اپنی کوئی رنجش کا بھڑاس نکالنے کی کوشش کی ہے،

یہاں خانقاہ میں بڑے بزرگ قاری حسان احمد صاحب رحمۃاللہ علیہ کا آستانا ہے، ان کے بہت سارے شاگرد یہاں اپنی علمی تشنگی بجھانے آتے ہیں بڑوں کی بھی یہاں تعلیم و تزکیہ نفس ہوتا ہے اور چھوٹوں کی تعلیم بھی ہوتی ہے،یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے والوں بچوں کی تعداد لگ بھگ 150 ہے جو دار الا اقامہ میں رہتے ہیں،اس کے علاوہ گاؤں کے بچے بھی آتے ہیں، اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے جب چندردیپ تھانہ کی پولیس آئی تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا، وہاں اُن لوگوں نے چند بچے و استاد جو پھنس گئے اسی کو پایا باقی کچھ نہیں پایا، جانچ میں ساری باتیں غلط ثابت ہوئی اس کے لئے بہار منتھں کے بیرو چیف محمد سلطان اختر اور ہمارے نمائندے خبر تصدیق میں گئے مگر انہوں نے ہندوستان ہندی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایک قلم کار کو دہشت پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا شیبہ نہیں دیتا، اور آئندہ اس طرح کا کوئی معاملہ نہ آئے اس کے لئے ضلع انتظامیہ جموئی سے لے کر مراسلات کے تمام محکمے کو اطلاع کر دیا کہ آئندہ کسی بھی مدرسے اور کسی بھی ادارے پر اس طرح کا الزام تراشی سے ایسے لوگ باز آجائیں، اس طرح کی ذہنیت کوئی مدرسے اور خانقاہ کے تئیں نہ رکھیں،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close