بہار و سیمانچل

اس نازک گھڑی میں مذہب کی بنیاد پر ملک کو بانٹنے والا آر ایس ایس کہاں ہے : مہجورؔالقادری

خدائے قہار ہے قہر پر، کھُلے ہیں بدکاریوں کے دفتر

نوادہ ( پریس ریلیز) تنظیم عُلمائےحق و بہاراسٹیٹ اُردوٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع نوادہ کے صدر مولانا محمدجہانگیرعالم مہجورالقادری نے آج ایک پریس اعلانیہ میں کہا ہے کہ جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے ہر طرف اضطراب و بے چینی کا ماحول ہے آج ملک سمیت پوری دنیا میں کورونا وائرس نام کی بیماری یا وباء نے جو ہاہا کار مچارکھی ہے اس کے بارے میں ہم یا دنیا کے حکمرانوں نے کبھی محاسبہ کیا ہے؟ کہ آخر یہ وباء آج پوری دنیا میں کیسے پھیل گئی جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک ترقی یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے تھکتے نہیں اور ٹکنالوجی بھی بہت عروج پہ ہے فوجی اور طبی طاقتوں سے بھی دنیا بھری پُری ہے نیز ماہر سائنس دانوں کی بھی کمی نہیں ہے اتنے سار وسائل کے باوجود آج پوری دنیا اس وباء کے سامنے گُھٹنے ٹیکنے پہ کیوں مجبور ہوگئ چند دنوں کے لئے جنہیں اقتدار ملا ہے وہ اتنے مغرور ہوگئے ہیں کہ فرعون و نمرود بھی کئی قدم پیچھے رہ گئے ذرا سوچئے اور غور کیجئے کہ کشمیریوں کے ساتھ کتنا ظلم ہوا کیسی کیسی انہیں اذیتیں دی گئیں، فلسطینی مسلمانوں پہ اسرائیل نے کیسا جارحانہ سلوک کیا، میانمار میں خدا کے بندوں کا دن دہاڑے قتل عام ہوتارہا، بابری مسجد جو کہ اللہ کا گھر ہے اس کو مندر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنا کر گو گوئی نے دنیوی جاہ و حشمت کے حصول کی خاطر انصاف کے مندر میں بیٹھ کر انصاف کے وقار و حرمت کی چادر کو تار تار کردیا، اسلام جو دین فطرت اور اللہ کا پسندیدہ و منتخب مذہب ہے اقتدار کے زعم میں اس میں بیجا مداخلت کرکے شریعت کے قوانین کو مسخ کرنے کا فرمان جاری کردیا گیا، ماب لنچنگ کے نام پہ بے قصور اور غریبوں پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور بے رحمی کے ساتھ ان گنت لوگوں کو موت کی نیند بھی سلادیاگیا اتنے مظالم کے بعد ہم کیا سوچتے ہیں کہ دنیا میں سکون باقی رہے گا ہرگز نہیں، ان مظلوموں کی آہیں بارگاہِ ایزدی میں پہونچیں اور خدائے قہار کا قہر جلال میں آہی گیا جس سے آج اپنے کو سپر پاور سمجھنے والے ممالک بھی چاروں خانے چت نظر آرہےہیں مولانا محمدجہانگیرعالم مہجورالقادری نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک انصاف و عدل اور مروت و اخوت باقی رہے گی تب تک خدا کی طرف سے کوئی عذاب نہیں آئے گا، آج ہمارے ملک کے حالات اس قدر ناگفتہ بہ ہیں کہ پورے ملک کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے مگر یہ کام اور پہلے ہونا چاہئے تھا اور لاک ڈاؤن کرنے سے پہلے عوام کو اپنے اپنے صوبے، گھروں پہ آنے کااور تیاری کا موقع ملنا چاہئے تھا یہ اچانک لاک ڈاؤن سے جو ملک کے سامنے درپیش مسائل ہیں وہ بیان سے باہر ہیں آخر عوامی سطح پہ کب تک ان غریبوں کی مدد کی جائے گی جبکہ لاک ڈاؤن میں تمام متمول لوگوں کے کاروبار اور آمدنی کے ذرائع بالکل بند ہوچکے ہیں نوٹ بندی کا بھی اعلان اچانک رات کے بارہ بجے سے، دیش بندی یعنی لاک ڈاؤن کا اعلان بھی اچانک رات کے بارہ بجے سے ہی کیا گیا میرا تو اپنا تجزیہ بتارہاہے کہ مزدور، غریب، مسافر اور یومیہ کمانے کھانے والے افراداگر کوروناوائرس سے بچ بھی گئے ( ان شاءاللہ بچ ہی جائیں گے) تو بھوک والی آگ جو پیٹ میں لگتی ہے اس سے بچنا ممکن نظر نہیں آرہاہے ملک کے درپیش حالات سے نمٹنے کامرکزی و ریاستی حکومتوں کے سامنے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، ادھر دیش بھکتی کا دم بھرنے والے اور دیش بھکتی کا سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے والے آر ایس ایس و بجرنگ دل جیسی فرقہ پرست تنظیموں کا اس نازک گھڑی میں دور دور تک پتہ نہیں ہے جو ملک کو ہندو مسلمان کے نام پہ ہمیشہ بانٹنے کی کوشش کرتی رہی ہیں میں ملک کے جملہ مسلمانوں سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے کردہ گناہوں سے خوب خوب توبہ کریں اور نماز کی پابندی کے ساتھ اپنے روٹھے رب منانے کی کوشش کریں یاد رکھیں اللہ تعالٰی ہی قادر مطلق اور سب سے بڑی طاقت و قوت کا مالک ہے اس کے سامنے کسی کا بھی چارہ نہیں ہے لہذا اس کے قہر و غضب اور جلال سے ڈریں ساتھ ہی ساتھ جو غریبوں، بے سہاروں کی خدمت کرنے کا ابھی موقع ملا ہے اسے غنیمت جانتے ہوئے اپنے غریب پڑوسیوں کا بھر پور خیال رکھیں "طریقت بجز خدمتِ خلق نیست” موقع پہ حافظ عبداللہ رضوی ،قاری دانش رضا دلبر ،خالد شہر یار، کاشف رضا قادری وغیرہ موجود تھے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close