بہار و سیمانچل

کورونا وائرس سے بچنے کے لئے نوادہ کا تینوں دھرنا فی الحال ملتوی کیا گیا

نواده (محمد سلطان اختر) نوادہ ضلع سمیت پورے ملک میں اس وقت کورونا وائرس وبائی مرض کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ بہار میں بھی کورونا وائرس کا مریض ملنے سے وبا جیسی حالت پیدا ہوگئی ہے اور ابھی وقت ہے کہ جگہ جگہ بیداری پیدا کرنے کے لئے مہم چلائی جائے۔ یہ ساری باتیں ندیم حیات و قمر الباری دھمولوی اور مولانا آزاد نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہ تینوں ذمےدار حضرات ہیں،قمر الباری دھمولوی صمید باغ دھمول کے ذمےدار دھمول میں دھرنا 62 دنوں تک چلا ،بنڈلہ باغ نواده کے ذمےدار ندیم حیات ہیں بنڈلہ باغ میں 73 دنوں تک دھرنا چلا، اور گلزار باغ پکری برانواں کے ذمےدار مولانا آزاد ہیں گلزار باغ میں 60 دنوں تک دھرنا چلا، ان تینوں جگہوں کے زمیدران نے مشترکہ طور پر بتایا کہ لوگوں کو فی الحال منع کر دیا گیا ہے کہ ابھی ملتوی ہے 14 اپریل تک اس کے بعد کرونا وائرس سے فرصت کے بعد پھِر سے چالو کیا جائیگا، جب تک یہ کالاقانون واپس نہیں ہوتا ہے تب ہم لوگ اس لڑائی کو مضبوطی کے ساتھ لڑیں گے۔ قمر الباری دھمولوی نے کہا کہ شاہین باغ دلّی دھرنا کو پولیس کے ذریعہ اُجاڑ دئیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ لوگ مایوس نہ ہوں۔ ہم لوگ پہلے اس وبا سے نپٹتے ہیں اُس کے بعد بھی اگر گنگی بہری حکومت اس کالے قانون کو واپس نہیں لیتی ہے تو اور بھی مضبوطی کے ساتھ اس کالے قانون کے خلاف احتجاج تیزکریں گے اور بڑی تعداد میں شاہین باغ بنائیں گے۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر اس وباء سے نپٹنے اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کے بعد حکومت راشن اور روپیہ کے ساتھ ساتھ دوا اور علاج کی سہولت مہیا کرائے۔ صرف تھالی اور تالی پٹوانے اور کرفیو لگانے تک معاملہ کو نہیں رکھے۔ لوگوں کو سہولیات فراہم کرانا حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے کیوں کہ مزدور اور غریب جس کا روز کمانا کھانا ہے اس کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے اس لئے حکومت عوام کو کھانا اور روپیہ دونوں مہیا کرائے۔ اس وقت تقریبا ًپوری دُنیا ”کورونا“ کی وبا ء سے پریشان ہے۔ بہار سمیت ہمارے ملک کی بیشتر ریاستوں کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔ عوام کو حکومت کے اس اقدام کا تعاون کرنا چاہئے اور بلاضرورت گھر سے باہرنکلنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لئے کھانے پینے کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے بطور خاص مزدوروں اور روزانہ کمانے والوں کے لئے فاقہ کشی کی نوبت بھی پیدا ہوچکی ہے۔ ایسی صورت حال میں ہم سبھوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کا خیال رکھیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close