بہار و سیمانچل

ایک طرف ڈینینشن کیمپ ہے تو دوسری طرف کورونا مسلمان آخر کہاں جائیں

نوادہ ( محمد سلطان اختر)‌ نواده ضلع کی فعال تنظیم عُلمائےحق نے ایک مشاورتی میٹنگ کرونا وائرس کو لیکر کی، تنظیم علماء حق نوادہ کے صدر مولانامحمدجہانگیرعالم مہجورؔالقادری نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان سمیت پوری دنیا آج کورونا کے قہر کا شکار ہے ہمارے ملک کے بھی بیشتر صوبوں کے شہر کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے جس سے روزمرہ کی ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں مرکزی و صوبائی حکومتیں کورونا سے بچنے کے لئے لوگوں کو گھروں میں قید ہونے پہ مجبور کردیا ہے، اور اسی کورونا کی آڑ میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر جیسے آئین شکن قانون کے خلاف پورے ملک میں جو پُرامن احتجاج چل رہے تھے اسے ختم کروادیاگیاہے، یہاں تک کہ شاہین باغ کی شاہین صفت خواتین اور کنیزان فاطمہ و مریم کا احتجاج جو 101 کی عمر طے کرچکی تھی اسے بھی دہلی پولیس کے ذریعے جبراً خالی کروادیاگیاہے محض اس لئے کہ کہیں آپ لوگ بھی کوروناوائرس کی زد میں نہ آجائیں _ میں ملک کے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جب مسلمانوں اور دلتوں کے کوئی جگہ ہے نہیں اور یہاں رہنے کے لئے انہیں اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی تو پھر اتنی ہمدردی کی ضرورت ہی کیا تھی ایسے بھی مرنا ویسے بھی مرنا، مودی جی! اگر آپ کو واقعی ان عورتوں سے ذرہ برابر ہمدردی ہوتی جو سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں بھی اپنے نونہالوں کو لے کر احتجاج میں بیٹھی تھیں تو آپ اسی کورونا بیماری سے بچاتے ہوئے یہ کالا قانون واپس لینے کا اعلان کردیئے ہوتے تو خود بخود یہ احتجاج پورے ملک میں ختم ہوجاتا کسی کو پاگل کتا تو نہیں کاٹا تھا جو بلا وجہ اپنے گھر سارے آرام و آسائش کو بالائے طاق رکھ کر کھلے آسمان میں سرد و گرم موسم کی پرواہ کئے بغیر احتجاج میں کیوں بیٹھتے آپ کے ڈینینشن کیمپ میں مرنے سے تو بہتر ہوتا کہ آپ کے کالے قانون کی مخالفت کرتے کرتے دھرنا استھل پہ وہ مظاہرین مرجاتے اس سے کم سے شہادت کا درجہ تو مل جاتا – اور یہ ہمارے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کا کیا کہنا کہ ایک سو ایک دھرنا پہ لوگ بیٹھے رہے مگر انہیں ایک بار بھی وہاں جانے کی فرصت نہیں ملی دہلی فساد کی آگ میں جلتی رہی، انسانیت دم توڑتی رہی، لاشیں تڑپتی رہیں، بچے چیختے رہے، ماؤں کی کوکھییں اُڑتی رہیں اور پوری دہلی اپنے آپ پر ماتم کرتی رہی مگر اروند کیجریوال کو اس وقت ہنومان چالیسا پڑھنے سے فرصت نہیں ملی اور آج انہیں بھی شاہین باغ کو خالی کرانے کے لئے فرصت مل گئی جبکہ دہلی کے مسلمانوں کو اروند کیجریوال سے بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں مگر یہ بھی آر ایس ایس کا ہی ایجنٹ نکلا میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ کوروناوائرس کے ختم ہوتے ہی پورے دم خم کے ساتھ پھر سے ان شاءاللہ اس کالے قانون کی واپسی تک ہماری تحریک جاری رہے گی، اس موقع پر مولانا نعمان جمالی،مولانا مشرف قادری،ابو بکر،طلحہ،عبد اللہ سمیت دیگر لوگ موجود تھے،

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close