بہار و سیمانچل

کوروناوائرس کی آڑ میں پُرامن احتجاج ختم کرنے کی سازش

اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ 31 مارچ تک کوروناوائرس ہندوستان سے ختم ہو جائے گا؟ :مہجورؔالقادری

نوادہ (پریس ریلیز) مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری صدر تنظیم عُلمائےحق نوادہ نے اس بات پہ گہری تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی نے اپنے آقا امریکہ کے اشارے پہ وہاں کی مساجد میں نماز باجماعت پہ عائد کردی ہے جب کہ دوسری طرف ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردگان نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پہ مکمل یقین کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہاں کی مسجدیں بند نہیں کی جائیں گی بلکہ دعاء اور عبادات میں مزید خشوع اور خضوع اپنانے کا درس دیا جائے گا بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ جس شہر مکہ سے اسلام کی داغ بیل ڈالی گئی تھی اور جو توحید خداوندی کا سب سے بڑا مرکز ہے وہاں کے نام نہاد توحید پرست خادم حرمین اور مفت کے مفتیوں نے مسجدوں میں نماز باجماعت پہ پابندی عائد کرنے کا فتویٰ دیدیا جہا رسول پاک کے وسیلے سے بھی دعاء مانگنا شرک تصور کیا جاتا ہے وہاں بھلا اپنے آقا امریکہ کی خوشنودی کے ہر طرح کے شرک کو گوارا کیا گیا خدا رحم فرمائے رسول پاک کی اس بھولی بھالی امت پہ جو اپنے ہر عمل میں سعودیہ کو ہی اپنا آئیڈیل بنا تے ہیں جبکہ وہاں کے بیشتر حکمرانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے کردار و عمل سے مذہب اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اور عیاشی کی ساری حدیں پار کردی ہیں اگر آج سعودی حکمراں صحیح ہوتے تو فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پہ ظلم و ستم کے پہاڑ نہیں توڑے جاتے، قبلہ اول بیت المقدس پہ آج اسلام دشمن یہودیوں کا تسلط نہیں ہوتا، صدر عراق صدام حسین کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا جاتا، کرنل معمر قذافی کو صفحہء ہستی سے نہیں مٹایا جاتا امریکی جنرل قاسم سلیمانی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا جاتا اتنی بڑی تعدادمیں اسلامی ممالک ہوتے ہوئے امریکہ یا کسی بھی سپر پاور کی کاسہ لیسی نہیں کرتے ہندوستان کے بھی حالات ابھی جو چل رہے ہیں اس سے ہر کس و ناکس اچھی طرح باخبر ہے دوسری بار جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے ہر طرف خوف و دہشت کے سائے میں مسلمان جی رہے ہیں ہر طرح کی اذیت یہاں کے مسلمانوں پہ کی جارہی ہے اب ہمارے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے 22 مارچ کو جنتا کرفیو کا اعلان کر کے بظاہر کوروناوائرس سے بچنے کے لئے اسے ایک مثبت قدم بتایا ہے مگر در اصل اس کے پردے میں ایک بہت بڑی سازش نظر آرہی ہے کہ اسی بہانے سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں لگاتار جو تین ماہ سے پُرامن احتجاج چل رہے ہیں اسے ختم کردیا جائے اور عام لوگوں کی توجہ ادھر سے ہٹا کر کوروناوائرس کی طرف موڑ دیا جائے آخر 22 مارچ ہی کیوں اور وہ بھی صرف ایک دن ؟ کیا اس کے بعد کوروناوائرس ختم ہوجائے گا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ "کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ” والا معاملہ ہے یہ ہمارا ملک اتنا بڑا مہان ہے کہ رافیل اور بابری مسجد کے خلاف فیصلہ سنانے کے بدلے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف انڈیا کے رنجن گوگوئی کو انعام کے بدلے راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیا گیا جب عدالت عظمیٰ کے فیصلے اب بکنے لگے اور جج بھی اتنا ضمیرفروش ہوگیا کہ اسے خریدا جانے لگا تو انصاف کے کوئی بھی مظلوم کون سا دروازہ پہ دستک دے گا مولانا مہجورالقادری نے آخر میں امت مسلمہ سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہر لمحہ ہوشیار رہیں اور اپنے رب سے اپنی عبدیت کے رشتے کو مزید مضبوط کریں اور یقین رکھیں کہ موت سے پہلے موت نہیں آسکتی ہم کسی بھی مہلک بیماری سے نجات کیلئے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں بطفیل رسول اکرم دعاء کریں گے مگر نہ اپنی مسجدیں بند کریں گے اور نہ اللہ تعالٰی کی عبادت و بندگی، اللہ تعالیٰ ہمارے ملک میں امن و امان عطا فرمائے اور کوروناوائرس جیسے مہلک امراض سے یہاں کے اور پوری دنیا کے لوگوں کو محفوظ رکھے آمین

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close