بہار و سیمانچل

وزیر اعلیٰ بہار کے اعلان پہ زیادہ خوش فہمی کے شکار نہ ہوں مسلمان : مہجورالقادری

نوادہ(محمد جہانگیرعالم قادری) 26 فروری بہار اسمبلی میں این آر سی اور این پی آر کے خلاف قرارداد کامنظور کرانا نتیش کمار کا ایک چھلاوا ہے اور بہارکے مسلمانوں و جمہوریت پسندوں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ یہ قانون مرکزی حکومت نے پاس کروایا ہے جسے اپنے صوبے میں نافذ کرنا یا نہ کرنا صوبائی حکومت کے دائرہء اختیار سے باہر ہے جبکہ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے ہےکہ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ملک کی سالمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں کی سب سے بڑی عدلیہ سپریم کورٹ اس کالے قانون کو یا تو یکسر مسترد کردے یا پھر مرکزی حکومت اس قانون کو ختم کرنے کا اعلان کرے اس کے علاوہ اور کوئی دوسری صورت نہیں ہے اگر کوئی وزیر اعلیٰ این آر سی، سی اے اے یا این آر پی اپنے صوبے میں اس کالے قانون کو نافذ نہ کرنے کا اگر اعلان کرتا ہے تو وہ گویا وہاں کی عوام کو فریب دے رہاہے اس لئے ایسے پُر فریب باتوں میں آنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے بلکہ ملک گیر سطح پہ اس سیاہ قانون کے خلاف جو پُر امن احتجاج چلائے جارہےہیں اسے مزید مضبوط و مستحکم کریں اور اس کالے قانون کے ساتھ مودی کی فرقہ پرست حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں تب ہی ہمارا ملک محفوظ رہے گا مذکورہ خیالات کا اظہار بہاراسٹیٹ اُردوٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع نوادہ کے صدر مولانا محمدجہانگیرعالم مہجورالقادری نے کیا

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close