بہار و سیمانچل

این پی آر کی سیڑھی پر چڑھ کر این آر سی کو نافذ کرنے کے کی کوشش میں ہے حکومت: مینا تیواری

سی اےاے این آر سی اور این پی آر کےخلاف 25 فروری کو تاریخ شاز اسمبلی مارچ ہوگا : سی پی آئی ایم ایل

مظفرپور:16/ فروری (پریس ریلیز )متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، این پی آراوراین آر سی کے خلاف جاری مظاہرے میں طویل عرصے کے بعدہندو-مسلم یکجہتی پھر سےنظر آ رہی ہے۔ اس یکجہتی کو دیکھ‌کے حکمراں بی جے پی میں بےچینی صاف دکھ رہی ہے۔ایسی ہی بےچینی 1857 انقلاب کے بعد انگریزوں میں دکھی تھی۔انگریزوں نے اس سے نپٹنے کے لئے پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی اپنائی تھی ٹھیک اسی طرح آج بی جے پی پھی انگریزوں کی پیروی کرتے نظر آرہی ہے ان خیالات کا اظہار سی پی آئی ایم ایل اور انصاف منچ کے زیر اہتمام آئندہ 25 فروری کو اسمبلی مارچ کو کامیاب بنائے کے لیے آئین بچاؤ- ملک بچاؤ، شہریت بچاؤ مہم کے تحت مظفرپور کے دورہ پر پہنچی سی پی آئی ایم ایل سینٹرل کمیٹی کی رکن و اکھیل بھارتیہ پرگتی شیل مہیلا ایسوسی ایشن (ایپوا) کی قومی جنرل سیکریٹری مینا تیواری نے ضلع کے اورائی بلاک میں اے پی جے عبدالکلام آئی ٹی ائی کے نزد 19 دنوں سےجاری غیری معینہ مدت دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا میناتیواری نے کہا کہ آئین، ملک شہریت کی تحفظ کے لیے آج پوا ملک سڑکوں پر ہے،آئین کی حلف لیکر حکومت میں آئی بھاجپا آئین کوہی ختم کرنےمیں لگی ہوئی ہے،جس شخص کو عدالت نے صوبہ بدر کردیاتھا آج وہی شخص لوگوں کو ملک بدر کرنے کی سازش کررہاہے،کافی مشقتوں اور قربانیوں کےبعد حاصل یکہجتی،اورامن و امان کوختم کیاجارہاہے،ملک کو فرقہ وارانہ دنگوں کی آگ میں جھونکنے کی پرزور کوشش ہورہی ہے،مخالفت کی آواز کودبانے کےلیے بھاجپائی غنڈوں کےساتھ مل کر ملک کی پولیس ،غیر ملکی حملہ آوروں کی طرح ملک کےعام لوگوں خاص کر اقلیت سماج کے لوگوں طلباء، نوجوانوں اور خواتین پر ٹوٹ پڑی ہے، انہوں نے این پی آر/این آرسی کو غریب و اقلیت مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اسی ملک کے شہری ہیں، اب شہریت ثابت کرنے خی کوئی ضرورت نہیں ہے میناتیواری نے کہا کہ ملک کے کروڑوں غریبوں کے پاس دستاویز نہیں ہیں وہ کیسے ثابت کریں گے کہ وہ اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔بی جے پی کے لوگ بے روزگاری اور خستہ حال معیشت سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لئے ایسا غیر ضروری کام کررہے ہیں۔ وہیں انصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم نے اپنے خطاب میں کہاکہ بی جے پی کے لوگ سماج میں تفریق پیدا کر کے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم آئین کا احترام کرتے ہیں اور وہ دستور کو ہی نہیں مانتے۔آج جب ملک کی معیشت آئی سی یو میں پہنچ گئی ہے اور ان کے نزدیک ملک کو دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو سماج میں ایک دوسرے کو لڑوانا چاہتے ہیں۔لیکن انہیں کبھی کامیابی نہیں ملےگی علاوہ ازیں انصاف منچ بہار کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ، سی پی آئی ایم ایل مظفرپور کے ضلعی سیکریٹری کرشن موہن، نے اپنے خطاب میں مودی اور نتیش کمار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریت قانون کے پورے معاملے میں نتیش کمار کا کا دورخی چہرہ سامنے آیا ہے انہوں نے پلہے سی اےاے کی حمایت کیا اورپھر بھی بہار کے لوگوں کوگمراہ کررہے ہیں کی بہار میں این آر سی نافذ نہیں ہوگا لیکن دوسری جانب این آر سی کی پہلی سیڑھی این پی آر کو نافذ کرنے کے لیے بیتاب نظر آرہے ہیں سورج کمار سنگھ نے کہا کہ نتیش کمار این پی آر کے راستے این آر سی نافذ کرنا چاہ رہے ہیں اسی لیے انہوں نےبہار میں این پی آر کے لیے نوٹیفیکیشن کیا ہے کرشن موہن نے کہا کہ پچھلے اسمبلی سیشن میں ہماری پارٹی نے جب این آر سی کے خلاف قرارداد پاس کرنے کو کہا تو نتیش کمار نے اسے ٹھکرا دیا تھا اس سے صاف صاف معلوم ہورہاہے کہ نتیش کمار این آر سی اور این پی کے متعلق بہار کے لوگوں سے جھوٹ بول رہے ہیں کرشن موہن نے کہاکہ بھاجپا کے کے فاسسٹ ہندو راشٹر کی تصور میں دلت، پسماندہ، غریب،خواتین اور مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے یہ لوگ تو شروع سے ہی آئین جلاتے آرہے ہیں ان کا آئین منوسمرتی ہے کرشن موہن نے کہا کہ بھاجپا اورآرایس ایس ترقی یافتہ بھارت کو فاسسٹ دقیانوسی ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن فخر کی بات ہےکہ ملک کے عام عوام،طلبہ ،نوجوان، دانشوران، مزدور کسانوں نے ان کی ناپاک منصوبوں کو سمجھ لیا ہے اس لیے آج ملک میں ایک بارپھر ر جنگ آزادی اور تحریک آزادی کی طرز پرو جدوجہد کا ماحول بناہوا ہے پورا ملک آج بھاجپا کے کے ملک تقسیم کی سازش کے خلاف اپنی مشترکہ شہادت مشترک وراثت کے تحفظ میں اٹھ کھڑا ہوا ہے کرشن موہن نے کہا کہ پورے ملک میں این آر سی نافذ ہونے پرکروڑوں لوگوں کا شہریت ختم ہو جائے گا شہریت سے محروم ہونے کےبعد لوگ اپنے گھر زمین زائداد سمیت اپنا سب کچھ کھو بیٹھیں گے انہوں نے کہا کہ ہم بھاجپا کے غریب مخالف، آئین مخالف، جمہوریت مخالف مقاصد کو پورا نہیں ہونے دیں گےآئیے ہم سب سب مل کر ملک شہریت اور جمہوریت کو بچانے کی اس لڑائی کو منزل تک پہنچانے کے لیے آئندہ 25 فروری کو لاکھوں کی تعداد میں پٹنہ پہنچے اور اسمبلی مارچ کو کامیاب بنائیں اس موقع پر،کامران رحمانی، اکبر اعظم صدیقی، شفیق الرحمن، محفوظ الرحمن، توفیق رضا،شمشیر عالم کے علاوہ بڑی تعداد خواتین مظاہرین موجود تھیں

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close