بہار و سیمانچل

آڑھا سے پیدل مارچ علی گنج بلاک کے لئے نکلا اور تاریخ رچ دیا

جموئی ( محمد سلطان اختر ) ضلع جموئی کے تحت آڑھا سے پیدل مارچ نکلا۔ اور چنڈردیپ آتے آتے جلوس میں بدل گیا، اور پرسانواں نہر پر اجلاس میں تبدیل ہوگیا، اس پیدل مارچ کی قیادت مفتی عبد اللہ ظہیر نے کی۔ اور تمام لوگوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا ، آڑھا سے علی گنج بلاک کی دوری تقریبا 10 کلومیٹر ہے۔ اور وہاں سے نوجوان، بچے،بوڑھے غصے کے ساتھ علی گنج بلاک پہنچ گئے۔ جلوس قریب صبح 9:30 بجے آڑھا سے نکلا۔ اور یہ علی گنج بلاک 2 بجے پہنچی، اس وقت سہ پہر 2 بجے تھے۔ تقریبا 10 کلومیٹر کا فاصلہ 4 گھنٹے میں مکمل ہوا۔ اور پوری ناراضگی اور غصے کے ساتھ کالے قانون کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے آئے،اس موقع پر جمھریا ، آڑھا ، چنڈرديپ،بیلا، ، گلنی ، دین نگر، وغیرہ کے لوگ شریک ہوئے۔ اور محترم صدر جمہوریہ حکومت ہند نئی دہلی۔ کو بلاک آفیسر محمد شمشیر ملک کے حوالے سے خطوط بھیجا، میمورنڈم میں جو کچھ لکھا گیا ہے،وہ مندرجہ ذیل ہیں کہ ہم لوگ علی گنج اسلام نگر بلاک ضلع جموئی بہار کا رہائشی ہوں۔ تاریخ 15-02 ۔ 2020 دن ہفتہ ، سی اے اے ، این آر سی ، اور این پی آر کے خلاف آئین کو بچانے کے ، سینکڑوں گاؤں والوں نے پیدل مارچ کے نام پر 10 کلومیٹر دور پیدل چل کر آئے ہیں، اس جلوس میں تین سو میٹر لمبا بھارت کا جھنڈا تھا جیسے لوگ ہاتھوں میں لیکر سڑک کے ایک کنارے سے چلے جا رہے تھے،یہ کالا قانون آئین کی روح اور اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ورزی کرتا ہے، اس کالے قانون کے خلاف علی گنج اسلام نگر بلاک دفتر پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے، کچھ مطالبہ ہم لوگوں نے کیا ہے،جو مندرجہ ذیل ہیں،
1۔ سی اے اے ملک کے آئین کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے، اس قانون کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس قانون کے ذریعہ، مذہبی سختی ملک کے لوگوں کو فروغ دیتی ہے ان سے مذہب کے بنیاد پر بٹوارہ کرتی ہے۔
2 ، یہ ہے کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 اور 15 ہر شخص کو قانون میں مساوات فراہم کرتا ہے، اور ریاست کے کسی بھی فرد کو اپنے مذہب ، ذات یا مسلک کی بنیاد پر قانون کے سامنے بد سلوکی کرنے سے روکا جاتا ہے ، ایسا کرنا مساوات کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔ کالا قانون جسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور کیا گیا ہے ، اس سے آئین کی روح اور اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ورزی ہوتی ہے۔
3 یہ ہےکہ مذہب کی بنیاد پر شہریت دینا ملک کو تقسیم کرنے والا ہے۔ ملک کا آئین تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا پابند ہے۔ یہ بل آئین کی روح اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
لہذا ، ہم سبھی جناب صدر جمہوریہ سے اپیل کرتے ہیں۔ کہ اس قانون کے ذریعہ ، لوگوں کے ساتھ ناانصافی اور فرقہ واریت ہو رہی ہے اس کو روکنے کے لئے اپنے وقار کا استعمال کریں۔ اس کے لئے ہم تمام بلاک کے رہائشی ہمیشہ آپ کے مشکور رہیں گے۔ اس موقع پر ہندو ، مسلم ، دلت معاشرے کے مرد ، ضلع کے تمام ذات پات کے افراد موجود تھے۔ جس کی تعداد تقریبا 25 سے 30 ہزار بتائی جارہی ہے، اس موقع پر تمام سیاسی،ملی،سماجی،قائدین اور رہنماء موجود تھے،

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close