بہار و سیمانچل

احتجاجی مظاہرہ کا ایک انوکھا انداز دھمول کے صمید باغ میں

نوادہ ( محمد سلطان اختر) نوادہ ضلع کے تحت دھمول کے صمید باغ میں دیکھنے کو ملا، یہ احتجاجی مظاہرہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے، آج 23 دنوں سے عورتیں مستقل مظاہرہ کر رہی ہیں،لیکن کبھی پیدل مارچ،تو کبھی کینڈل مارچ،تو کبھی مشعل جلوس،تو آج ایک انوکھا انداز خاموش احتجاج،ہر طرح سے اپنے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے، صمید باغ میں خاموش مارچ کرکے این پی آر، سی اے اے، اور این آر سی، کے تحت مظاہرہ کیا، یہاں کی عورتیں روز بروز ایک انوکھا انداز کا احتجاج کرتی رہتی ہیں،انکا ساتھ بخوبی مرد حضرات بھی دیتے رہتے ہیں،جن میں قمر الباری دھمولوی کا نام سرفہرست ہے،راجد اقلیتی سیل کے ضلع صدر نواده کی پوری حمایت ہی نہیں،بلکہ اس احتجاج کے روحِ رواں بھی ہیں،اس مظاہرہ کی سربراہی کر رہے ہیں، حکومت ہند کے سامنے ہر طرح کا احتجاج دیکھا رہا ہے،دھمول کا صمید باغ، بتاتے چلیں کہ صمید باغ کا یہ 23 واں دن بڑی کی کامیابی اور کامرانی سے گزر رہا ہے، اس کی کوئی کمیٹی نہیں ہے، گاؤں کے لوگ مل جل کراور قمر الباری دھمولوی کی سربراہی میں یہ مظاہرہ چل رہا ہے، پورے گاؤں والوں کی پوری حمایت ملی ہوئی ہے، اس مظاہرے سے پورے ملک میں ایک اچھا پیغام جارہا جا رہا ہے،لوگوں کو ایک سبق مل رہی ہے،یہاں کی عورتوں کے جذبات سے معلوم ہوتا ہے کہ رضیہ سلطانہ،پھولن بائی،فاطمہ شیخ،کی جیسی عکس نظر آرہی ہے، اس مظاہرے میں قریب آس پاس کے گاؤں کی عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں،جیسے،تُرک بن،دھمول،پرریا،کیتھا، وغیرہ کی عورتیں شامل ہوتی ہیں، یہ مظاہرہ دنوں بدین تیزی سے بڑھتا ہی جا رہا ہے، حکومت ہند کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت بہار سے بھی کافی ناراضگی دیکھی جارہی ہے، خصوصی طور پہ ریاست بہار کے حکومت یا نتیش کمار سے کافی ناراض ہیں، یہاں کی عوام ہر حال میں این پی آر،این آر سی،اور سی اے اے،کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں، اپنی کوئی جانکاری دینے کو تیار نہیں ہے،نہ کوئی کاغذات دیکھانے کو تیار ہے، اس موقع پر سیکڑوں کی تعداد میں عورتیں، مرداور بچے موجود تھے،

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close