بہار و سیمانچل

اودیش مھتو پر قتل کرنے کا معاملہ درج، قتل کی رچی گئی تھی شازش،اس سے قبل بھی شکایت پر نہیں دیا گیا دھیان،کمبہ کے لوگوں کا الزام

نوادہ ( محمد سلطان اختر ) نوادہ ضلع کے تحت قادر گنج تھانہ کے زمرے میں قادر گنج موڑ کے پاس اس سڑک حادثے کی ضد میں آکر جدیو اقلیتی سیل کی پنچایت صدر و پنچایت سمیتی کی ممبر ہر منصرف خاتون کی موت ہوگئی،موت کے بعد قادر گنج موڑ پر گھنٹوں سڑک کو کام رکھا اور اؤڈیش مہتو کی گرفتاری کی مانگ کی گئی،اس سے قبل بھی دھمکی اوديش مھتو کے طرف سے کئی بار مل چکی تھی،لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی،جس کے نتیجے میں آج کمبے والے اوڈیش کو قاتل مانتے ہیں، سڑک حادثہ ایک بہانہ بتاتے ہیں ہیں،کمبے کے لوگ، حالانکہ کہ مقتولہ کے کنبے والوں نے سڑک حادثہ نہیں مانتے ہوئے، جد یوکے جنرل سیکریٹری ابدیش مہتو پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ایک شازش رچ کر قتل کیا ہے، مقتولہ کے بھائی محمد احسان انصاری نے بتایا کہ پہلے سے بھی دھمکی دی گئی تھی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی، ہر دھمکی کے وقت آگاہ کرنے کے باوجود کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ جدیو کے جنرل سیکریٹری اور بیس ستری ممبر پر قتل کا معاملہ درج کرایا ہے، وہیں اودیشِ مھتو نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا آج کورٹ میں حاضری تھی، ہم کورٹ میں حاضری دینے گئے ہوئے تھے ہمیں بھی کورٹ میں جانکاری ملی،کہ سڑک حادثے میں موت ہو گئی ہے، لیکن سیاست کے تحت راتوں رات ہمیں پر قتل کا الزام میں پھنسایا جارہا ہے، ضلع انتظامیہ سے میں مانگ کرتا ہوں کہ اسکی جانچ پڑتال کی جائے، مقتولہ کے گھر والوں نے الزام لگایا اور مقتول مانتے ہوئے ابديش مھتو کے گرفتاری کی مانگ کی، اسی کے تحت قادر گنج موڑ کو جام کردیا،اور گھنٹوں جام رہا افرا تفری مچ گئی، واضح رہے کہ روہ تھانہ کے تحت پچمبھا گاؤں کی رہنے والی وہاڑی پنچایت سمیتی کی ممبر اپنے ساتھی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار ہو کر نواده سے گھر واپس آرہی تھی، اسی دوران نامعلوم گاڑی والے نے ٹکّر ماری،جس سے حادثے میں بری طرح سے زخمی ہوگئیں، آنن فانن انہیں علاج کیلئے ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران ہی ان کی موت ہوگئی، معاملے کی جانکاری ملتے ہی، نواده صدر ڈی ایس پی وجے کمار جھا اسپتال پہنچ کر معاملے کی چھان بین کی، قادر گنج تھانہ انچارج نے بتایا کہ ابدیشِ مہتو سمیت نامعلوم پر معاملہ درج کیا گیا ہے، معاملے کو باریکی سے دیکھا جا رہا ہے،اس کی جانچ پڑتال جاری ہے،

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close