بہار و سیمانچل

بہار کی نتیش حکومت این پی آر کے تعلق سے اپنا موقف واضح کرے : مہجورالقادری

نوادہ (پریس ریلیز 14 فروری) آج پورے ملک میں سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف پُرامن احتجاج جاری ہے اور ملک کے کئی وزراء اعلیٰ نے صاف طور پر کہدیا کہ ہم اپنےاپنے صوبے میں این آر سی اور این پی آر کسی بھی حال میں لاگو نہیں ہونے دیں گے مگر بہار کی نتیش حکومت جو سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹتی رہی ہے اب تک ان کی خاموشی سمجھ سے پرے نظر آرہی ہے جبکہ اپریل سے بہار میں این پی آر کرانے کی مکمل تیاری شروع کی جاچکی ہے اس سے پہلے بہار کے وزیراعلیٰ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ گذشتہ 2010 کی ہی طرز پہ این پی آر کرایا جائے مگر اب تک تصویر صاف نہیں ہوئی کہ اپریل سے بہار میں ہو نے والے این پی آر کے اضافہ شدہ کالم جن میں والدین کی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش پوچھے جانے کی بات ہے ان کالموں کا کیا ہوگا؟ بہار کی عوام اس سلسلے میں تذبذب کی شکار ہیں ایسے میں چاہئیے کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار اپنی خاموشی کو توڑیں اور اپنے موقف کی وضاحت کریں چونکہ دہلی کا الیکشن نے ویسے تمام سیاسی جماعتوں کو جو مذہب اور دھرم کی بنیاد پہ گندی سیاست کرتی ہے آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے اب بھی اگر ہمارے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنی سوچ نہیں بدلیں گے تو یقیناً آنے والا بہار کے الیکشن میں اس کی انہیں بھاری قیمت چکانی ہوگی مذکورہ بالا خیالات کا اظہار مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری،صدر تنظیم عُلمائےحق نوادہ نے کیا اور انہوں نے مزید کہا کہ اس بابت بہار کی ملی سماجی تنظیمیں (جیسے امارت شرعیہ، ادارہ شرعیہ، امارت اہل حدیث جماعت اسلامی وغيرہ) پہل کرے اور وزیر اعلیٰ سے مل کے بات کرے تاکہ جمہوریت اور امن پسند لوگوں کی بے چینی دور ہو!

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close