بہار و سیمانچل

سی اے اےشہریت پرحملہ آورقانون ! مفتی محمدثنا ءالہددیٰ قاسمی

نوادہ جموئی(12/فروری)CAA کےبارے میں عام طورسے یہ سمجھاجا رہاہے کہ یہ سٹیزن شپ امنڈمنٹ ایکٹ ہےحالانکہ اس قانون کےتجزیہ اورمطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ سٹیزن شپ پر اٹک یعنی حملہ آورقانون ہے اس قانون کے نفاذ سے حکومت کا ارادہ اقلیتوں،دلتوں،ایس سی ایس ٹی،اوبی سی اوربنجاروں کی شہریت کومشکوک قراردےکرانہیں ڈیٹنشن کیمپوں میں ڈالنے کا منصوبہ ہے،جس کی تیاری مختلف ریاستوں میں چل رہی ہے آسام میں جو ڈیٹینش کیمپ میں کام کر رہے ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ وہاں رہنے والوں کی زندگی بڑی کرب ناک اوردردناک ہےحکومت کے رحم وکرم پر ہیں اوران کےانسانی حقوق کی بھی مسلسل اندیکھی کی جارہی ہے،ان کی روح کا رشتہ ان کےجسم سے قائم ضرورہےلیکن ان کی حیثیت چلتے پھرتے لاشوں کی ہوگئی ہے،اگرپورے ملک میں این آرسی کرکے جن کےپاس شہریت سے متعلق کاغذات نہیں ہوں ان سب کو ڈیٹنشن کیمپوں میں ڈالاجائے گاجہاں وہ ایڑیاں رگر رگرکر دیر سویر مر جائیں گے، CAA، NRC NPRکےخلاف ہماری یہ لڑائی ہندستان کے تمام ایسے مظلوم شہریوں کے لئے ہے جن کویہ سیاہ قانون غیرملکی قرار دیکران کی شہریت کوختم کرنےکیے لئے منصوبہ بندانداز میں لایا گیا ہے دہلی کی عوام جہاں شاہین باغ میں اس قانون کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے وہاں کی عوام نےکمل پر جھاڑو پھیرکر پورے ملک کو یہ پیغام دیاہے کہ اب ملک میں ہندستانی شہریوں کوبانٹ کرنفرت کی سیاست نہیں چلے گی ۔بدعنوانی، بدزبانی، بیکاری اوربےروزگاری جیسے مدوں کے مقابلے بےروزگاری پرجو جواب نہیں دیں گے ان کی صفائی جھاڑو لگا کرکردی جائے گی، ان خیالات کااظہارامارت شرعیہ کےنائب ناظم وناظم وفاق المداس اسلامیہ اورہفت روزہ نقیب کےمدیرمحترم جناب مفتی ثناءالہد یٰ قاسمی نےکیا وہ قائد وفدکی حیثیت سے نوادہ پکری برانواں آڑھا جموئی اوربہارشریف میں CAA کےخلاف مختلف کیمپوں میں خطاب فرمایا،انہوں نے وزیر داخلہ کےاس بیان کی مذمت کی کہ وہ اس کالے قانون سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کوتیارنہیں ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کویہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہم احتجاجی مظاہرہ کرنے والے بھی اپنے موقف سے ایک انچ ہٹنے کوتیارنہیں ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ لڑائی مختصر نہیں لمبی چلے گی امارت شرعیہ حضرت امیرشریعت کی ھدایت ورہنمائی میں گذشتہ آٹھ مہینوں سے CAA NRC کےخلاف رائے عامہ بیدارکرتی رہی ہے لاکھوں کی تعداد میں پوسٹراورپم فلٹ تقسیم کر کے کالے قانون کے مفاسد اورشہریوں کے مفادپراس کےمضراثرات سے واقف کرایا گیا ہے، پورے ملک میں ہورہےاحتجاج اور دھرنے کوامارت شرعیہ کی حمایت حاصل ہے امارت شرعیہ کے ذمہ دران و کارکنان پورے ملک میں گھوم گھوم کرمظاہروں میں خودبھی شرکت کر رہے ہیں اور حوصلوں کو بلندبھی کررہےہیں اور ان کےخطابات بھی ہورہےہیں یہ تمام جدوجہداس کالے قانون کےخلاف لمبی لڑائی لڑنے کامضبوط حصہ ہے مفتی صاحب نے فرمایاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ملک کےسکولرذہن رکھنےوالے مختلف مذاہب کےلوگوں کوبتایاجائے کہ یہ قانون آپ کی شہریت کوبھی خطرے میں ڈالنے والاہے آج کےوفد میں شامل رکن شوریٰ امارت شرعیہ قاری شعیب احمدناظم مدرسہ عظمتیہ نوادہ نے کہا کہ ہم سب امیرشریعت دامت برکاتہم کی ہرھدایت پرعمل کرنےکو تیار ہیں ہم شکرگذارہیں کہ اس نازک موقع پربھی حضرت نےامت کی رہنمائی کے لئے امارت شرعیہ کےذمہ دران کو وفدکی شکل میں پورے بہارکادورہ کرنے کاحکم دیااللہ حضرت کی عمرمیں برکت عطا فرمائے ،ہم سب ارادہ کریں کہ NPR CAA NRC کےخلاف جدوجہد جاری رکھیں گے آج وفدمیں قاری شعیب احمدناظم مدرسہ عظمتیہ قاضی ضیاء الدین مظاہری دارالعلوم رحمانیہ نوادہ بہارشریف کےقاضی شریعت مولانامنصورقاسمی امارت شرعیہ پٹنہ سے مولانانصیرالدین مظاہری جموئی آڑھاکےقاضی افتخاراحمدقاسمی جموئی شہرکےقاضی شریعت مولانانعمان قاسمی جناب ماسٹرنثاراحمدجموئی شمشیر صاحب مولانامطیع الرحمن ارول شامل تھےعلاقائ طورپرجناب مفتی عبداللہ ظہیر، مولاناآزاد ،شہنواز انورمکھیا،ڈاکٹرفخرالدین ،مولانامسرور،مظاہری الحاج نوشادکےڈی ،چودھری پنکج کمار،ستیش ورما،چندن جی وغیرہ احتجاجی دھرنے میں بطورخاص موجودتھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close