بہار و سیمانچل

جل-جیون ہریالی کو لیکر 19 جنوری 2020 کو بننے والی انسانی زنجیر پوری طرح ٹائے ٹائے فیس

نوادہ (محمدّ سُلطان اختر) نوادہ ضلع کے تحت پکری برانوان بلاک کے جمہریا سے آرھا ہوتے ہوئے علی گنج تک کا حال بہت برا نظر آیا، بہار حکومت کی جانب سے چلائے جا رہے جل-جیون مہم کے تحت 19 جنوری 2020 کو بننے والی انسانی زنجیر مینوں کی مشقت اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی ناکام ہو گیا ۔ ملنے والی اطلاعات کے مطابق نوادہ ضلع کے برانواں بلاک سمیت ریاست کے تمام اضلاع میں انسانی زنجیر فلاپ رہا ۔ قیاس آرائی پہلے سےکی جا رہی تھی کہ اس بار نتیش کمار کے انسانی زنجیر کی مہم ناکام ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری ملازمین خصوصاً کنٹریکٹ اساتذہ اس بار کھل کر اس کی مخالفت کرتے نظر آ رہے تھے۔ تصاویر کو دیکھ کر آپ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسانی زنجیر کیسا رہا؟ گوپال گنج،دربھنگہ،مظفر پور وغیرہ سے ملی اطلاع کے مطابق وہاں بھی انسانی زنجیر میں لوگ شامل نہیں ہوئے ۔موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام تو عوام خواص و سرکاری ملازمین بھی اب نیتیش کمار کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہیں، لوگ جگہ جگہ یہ بیان بازی کرتے نظر آ رہے ہیں کہ نتیش کمار جب سے این ڈی اے حکومت کا حصہ بنے ہیں، انہیں غلط اور صحیح کا اندازہ ہی نہیں رہا ہے کہ لوگ حکومت سے کن چیزوں کی توقع رکھتے ہیں وغیرہ ۔
حکومت بہار کے موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مرکزی حکومت کے کالے قانون کی حمایت میں ووٹ دے کر نہ صرف لوگوں کی اعتماد کو متزلزل کیا ہے بلکہ اپنی بدنیتی کو بھی ظاہر کر دیا ہے اور مستقبل قریب میں وہ اپنا انجام بھی دیکھ لیں گے ۔ تو وہیں انسانی زنجیر میں شامل چند ایک افراد نیتش حکومت کی مخالفت کے باوجود جل -جیون ہریالی مہم کی حمایت کر رہے تھے ۔
اس انسانی زیجیر میں زیادہ تر غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنان اور پرائیویٹ اسکول کے بچوں سمیت چند ایک مقامی لیڈران موجود رہے،اسی طرح آرها موڑ پر دیہی ترقیاتی وزیر شرون کمار کی شمولیت بھی ہوئی اُنکے ساتھ پردیپ مہتو سابق ایم ایل اے اور دگربھی فوٹو کھیچوا کر نتیش کمار جی کو خوش کرنے میں لگے تھے مگر وہ فوٹو کھچوانا بے سود ہوگیا تو وہیں سرکاری اسکول کے بچے اور اساتذہ ندارد تھے ۔ اس انسانی زیجیر کو دیکھ کر شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نتیش حکومت کی الٹی شروع ہو چکی ہے، اگر حکومت نیک نیتی سے کام نہیں کریں گے تو انجام بھگتنا طئے ہے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close