بہار و سیمانچل

نوادہ میں احتجاجی دھرنا کا پانچواں دن مضافات سے بلا تفریق بچے بوڑھے جوان مرد اور عورتوں کی زبردست بھیڑ امڈ رہی ہے

مودی، امت شاہ نے پورے ملک کو روڈ پہ لا کھڑا کیا ملک کے تمام ہندو مسلم سکھ عیسائی نے مودی، امت شاہ کو یکسر مسترد کردیا :مہجورالقادری

نوادہ (پریس ریلیز) کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتی ہے یہی حال ہمارے ملک کے زعفرانی وزیراعظم مودی اور تاناشاہ وزیر داخلہ امت شاہ کا ہونے جارہاہے جتنی جلدی بی جی پی کو عروج ملا اور اقتدار کی کرسی پہ ناجائز طور پر( EVM کے ذریعہ) قبضہ کرکے ملک کے باشندوں کو پریشان کیا اب بہت جلد ہی اس کا زوال شروع ہو گیا ہے اس کی ساری تدبیریں الٹی ہوتی چلی گئیں تڑی پار نے تو سو چاتھا کہ سی اے اے، این آر سی اور این آر پی جیسے قانون کو لاکے ہندوؤں کو مسلمانوں سے اور مسلمانوں کو ہندوؤں سے لڑاکر اپنی سیاسی روٹی سینک لوں گا مگر یہ سب اس کے گلے کی ہڈی بن گئے نوادہ کے دھرنا میں خطاب کرتے ہوئے قاضئ شہر علامہ نعمان اخترفائق جمالی مہتمم دارالعلوم فیض الباری نوادہ نے مودی امت شاہ اور آر ایس ایس کی پوری قلعی کھول کے رکھ دیا اور امت شاہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم ایک انچ پیچھے نہیں ہٹوگے تو بھارت کا مسلمان بھی آدھا انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور سنو امت شاہ! تم نے یہ قانون لا کر ہمارا کام آسان کردیا کہ آج پورے ملک کے مسلمانوں خاص کر مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کردیا ساتھ ہی ساتھ پورے ملک انصاف پسند اور جمہوریت پہ بھروسہ رکھنے کو تم متحد کردیا یہی نہیں گاندھی اور گوڈسے کے ماننے والوں کا پیمانہ بھی الگ الگ ہوگیا کہ گوڈسے کے حمایتی کون ہے اور گاندھی جی کے اَہنسا کے راستے پہ چلنے والا کون ہے، مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری نے کہا کہ مودی جی! بلی اب تھیلے سے باہر آگئی ہے بھارت کے عوام جاگ چکے ہیں اب تمہارا آر ایس ایس کا نہ ایجنڈا چلے گا اور نہ آر ایس ایس کا یہاں جھنڈا چلے گا زیادہ ہٹلر شاہی کروگے تو اب گوڈسے کے ماننے والوں پہ عوام کا ڈنڈا چلے گا، خانقاہ افضلیہ نوادہ کے سجادہ مولانا سید ارشد افضلی نے پی ایم مودی اور امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ سوئے تھے تم نے جگا کر اپنے حق میں بڑا برا کیا اب تمہاری الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے تم تین طلاق کے بہانے شریعت پہ حملہ کیا ہم نے برداشت کیا تونے 370 اور 35/A کی آڑ میں ہماری مسلم بہنوں کی عزت و عصمت سے کھلواڑ کیا ہمارے نوجوانوں پہ ظلم و ستم کے تو نے پہاڑ ڈھائے ہم نے برداشت کیا 500 سالہ پرانی اور تاریخی بابری مسجد کو تونے ہم مسلمانوں سے چھین لیا پھر بھی ہم نے برداشت کیا امت شاہ سن لے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کمزور ہیں بلکہ ملک کے امن و شانتی کو ہم نے مقدم سمجھا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا مگر جب تم نےملک کے آئین و دستور پہ حملہ کیا تو ہم نے فیصلہ لیا کہ مسلمان اپنے اوپر تو حملہ برداشت کر سکتا ہے مگر سنویدھان پہ حملہ برداشت نہیں کرسکتا، مفتی عنایت اللہ قاسمی دفترانچارج مجلس العلماء والاُمّہ نے کہا آج پورا ملک سلگ رہا ہے اور ہرچہار جانب سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آواز آٹھ رہی جس میں ملک کے تمام طلباء وطالبات جو کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتےہیں ان طلباء وطالبات کو دل کی گہرائیوں سے سے سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے کسی قیادت کی پرواہ کئے بغیر میدان عمل میں اتر گئے اور مودی، امت شاہ کو بے نقاب کر دیا بہتوں نے تو ملک کی سالمیت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر دیا
اس کے سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھی دھرنا سے خطاب کیا

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close