بہار و سیمانچل

بے انتہا خوبیوں کے حامل اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے مفتی الیاس مظاہری: مولانا انیس الرحمن قاسمی

سابق ناظم امارت شرعیہ یہ اور آل انڈیا ملی کونسل کی نائب صدر نے لاک ڈاؤن میں میں وفات پانے والے علماء کے لئے ڈھاکہ کے مسجد الیاس میں منعقد دعائیہ مجلس اور تعزیتی نشست سے کیا خطاب- علماء،ایمہ و اکابرین اور تعلیم یافتہ افراد کی رحلت کو خطبا نے بتایا ملت اسلامیہ کے لیے عظیم خسارہ-

موتیہاری (پریس ریلیز) علماء کسی بھی معاشرے کا حسن اور وقار ہوتے ہیں۔ علماء کا وجود معاشروں کے لیے اس اعتبارسے انتہائی ضروری ہے کہ عوام الناس ان سے شرعی‘ دینی ‘ سماجی و دیگر معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں- مفتی محمد الیاس مظاہری‌ نوراللہ مرقدہ کی شخصیت غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی، ان کی سرپرستی میں بہار میں کئی مکاتب چل رہے تھے، آپ متحرک مزاج اور فعال کاموں کے لئے جانے جاتے تھے، مولانا کا شمار ہندوستان کے چوٹی کے علماء میں ہوتا تھا- ان خیالات کا اظہار ڈھاکہ کے رام چندرمیں لہن ڈھاکہ روڈ میں واقع مسجد الیاس میں منعقد دعائیہ مجلس وتعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے سابق ناظم اورآل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کیا- انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم نے خدمات اور ایثار و قربانی سے بھرپور اپنی بے داغ ،باوقار ،پر عزیمت اور اصول پسند انہ زندگی میں کردار و عمل کا جو نمونہ پیش کیا ہے اس کی نظیر پیش کرنا انتہائی مشکل ہے- اللہ تعالی مولانا مرحوم کو غریق رحمت فرمائے- ساتھ ہی جامعہ القاسم کے بانی و مہتمم مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی رحلت کو عظیم خسارہ قرار دیا اور کہا کہ وہ بیدارمغز ، صاحب الرائے ،فعال و متحرک اور دور اندیش قائم تھے۔ ان کی رحلت سے ملت اسلامیہ نے اپنے ایسے بے لوث ،فعال اور ہمہ جہت خوبیوں کے حامل رہنما کو کھو دیا ہے ، جس کی تلافی بظاہر مشکل نظر آتی ہے ، اس موقع پر مغربی چمپارن کے بیسکھوا سے تشریف لائے مولانا عبدالحق نے کہا کہ ایک عالم کی موت پورے جہاں کی موت ہے۔ بات بالکل درست ہے کہ ایک عالم کی موت ایک شخص کی موت نہیں بلکہ علم کے ایک جہاں کی موت ہے۔ جو علم اس نے حاصل کیا وہ تو اپنے ساتھ لے گیا، اب دنیا اس کے علوم سے محروم ہوگئی۔ موجودہ دور میں پہلے ہی مخلص لوگوں کی کمی ہے، ہر طرف افراتفری ہے، ہر شخص اپنی ذات کی فکر میں ہے، ایسی صورتحال میں امت کا غم اور درد رکھنے والی شخصیات کا تیزی سے چلے جانا آفت سے کم نہیں۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں، بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے علماء کرام کی قدر نہیں کی۔ یہ برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کی نعمت ہیں، لیکن ہم نے اس نعمت کی انتہائی ناقدری کی ہے- وہیں اس موقع پر ڈھاکہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا نذرالمبین ندوی نےکہاکہ اللہ تعالی کا قانون ہے کہ جب اس کی عطا کردہ نعمت کی قدر کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے تو وہ نعمت میں اضافہ کرتا ہے اور جب اس کی کسی نعمت کی ناقدری کی جائے اور اس کی ناشکری کی جائے تو وہ اس نعمت کو چھین لیتا ہے۔ شاید اسی قانون کے مطابق اللہ تعالی نے اپنے اولیاء کو ہم سے چھین لیا ہے,اور آج امت خالی خالی محسوس ہونے لگی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران رفتہ رفتہ علماء کرام اٹھتے گئے، شاید یہ الارم تھا کہ سنبھل جاؤ لیکن ہم اس وقت نہ سمجھے، نہ سنبھلے تو پھر یک دم بہت سے علماء کرام کو اللہ تعالی نے اپنی جوار رحمت میں بلالیا اور ہم ان کے فیض سے محروم ہو گئے، گنتی کے علماء کرام ہی رہ گئے ہیں جن کی قدردانی ضروری ہے۔اس موقع پر عالمی وبا کرونا وائرس کے دوران وفات پانے والے علماء، پروفیسر اور اکابرین کے لئے ایصال ثواب اور دعا کا اہتمام کیا گیا- موقع پرمظاہر علوم سہارنپور کے ناظم حضرت مولانا محمد سلمان نوراللہ مرقدہٗ ، قاضی شریعت حضرت مولانا قاضی عبد الجلیل نوراللہ مرقدہٗ، حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری نوراللہ مرقدہٗ ،حضرت مولانا مفتی عبد الرزاق بھوپال، مفکر ملت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ،امیرالہند مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری نوراللہ مرقدہٗ, حضرت مولانا محمد طٰہٰ مظاہرالعلوم سہارنپور، ادیب الاریب حضرت مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہری نوراللہ مرقدہٗ، علوم و معارف کے امین حضرت مولانا محمد حمزہ حسنی ندوی نوراللہ مرقدہٗ، محدث عظیم حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی نوراللہ مرقدہٗ، علم و ادب کے آفتاب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی نوراللہ مرقدہٗ، حضرت مولانا قاسم صاحب مظفر پوری نوراللہ مرقدہٗ، ناموس رسالت کے علمبردار حضرت مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نوراللہ مرقدہٗ، قومی یکجہتی کے ترجمان حضرت مولانا محفوظ الرحمن شاہین جمالی چترویدی، حضرت مولانا متین الحق اسامہ کانپوری ،حضرت مولانا واضح رشید ندوی نوراللہ مرقدہٗ، نمونہ سلف حضرت مولانا قاری محمد الدین گیاوی، محدث جلیل اور جامعہ زکریہ ڈھا کہ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد الیاس مظاہری نوراللہ مرقدہٗ، مدبر ملت الحاج حسن احمد قادری نوراللہ مرقدہٗ، جمیعت علماء بہار کے نائب صدر مولانا محمد حدیث قاسمی نوراللہ مرقدہٗ، مولانا ابوبکر اس میں استاد مدرسہ حسینیہ رانچی نوراللہ مرقدہٗ سمیت عالمی وبا کے دوران وفات پانے والے علماء کے لئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا- اس موقع پر مختلف مدارس کے ذمہ داران، علمائے کرام،ائمہ عظام اور دانشوران موجود تھے- موقع پر شرکت کرنے والوں میں میں مفتی ثناء اللہ قاسمی، مولانا امان اللہ مظاہری، مولانا عبد الروف ،مولانا جاوید مظاہری، مولانا عبداللہ مظاہری، قاری علاؤالدین ایمانی، قاری آس محمد مظاہری، مولانا ارشد ثنا مظاہری، جامعہ زکریا کے ناظم مفتی محمد احمد قاسمی،مظہر عالم، قاری ارشد جامعی، مولانا اکرم،قاری منور حسین،‌ قاری سراج احمد،مولانا سعید احمد قاسمی، مولانا حبیب اللہ اللہ، مولانا محب اللہ، مولانا مجیب الرحمن، قاری انعام الحق سمیت درجنوں علماء، اءمہ اور اکابرین کے اسماء شامل ہیں- اس موقع پر تمام مرحومین کے اعلی درجات اور مغفرت کے لیے دعا کا اہتمام کیا گیا، وہی اس تقریب سے قبل مولانا انیس الرحمن قاسمی نے لھن ڈھاکہ کے جامع مسجد میں بھی خطاب کیا-

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close