بہار و سیمانچل

شہاب الدین پرآرجے ڈی پریشان،غصے ٹھنڈاکرنے کے لیے ورچوئل میٹنگ میں خراج عقیدت

تیجسوی یادونے اسامہ سے ملاقات کے لیے قریبی ایم ایل اے کوبھیجا،خودجانے کاموقعہ نہیں

نئی دہلی9مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) شہاب الدین معاملے پرلالوخاندان بری طرح گھرگیاہے۔دہلی میں یہ خاندان مو جودرہاہے لیکن نہ توشہاب الدین کوایمس میں داخل کرانے کی کوشش کی،نہ آخری رسومات کے لیے بہارجانے کابندوبست کرایااورنہ جنازہ کے وقت راجدکاکوئی لیڈردہلی میں موجودرہنے کے باوجودپہونچا۔اس سے پورے مسلمانوں میں تیجسوی یادواورآرجے ڈی کے لیے زبردست غصہ ہے۔دودن پہلے حناشہاب نے بہارمیں راجدکے لیڈروں سے ملنے سے انکارکردیا۔اس سے آرجے ڈی کے پائوں تلے زمین کھسک گئی ہے اگراسے بہارکااقتدارچاہیے تومسلمانوں کاساتھ ضروری ہوگا۔لالو خاندان اب شہاب الدین خاندان کو منانے میں مصروف ہے۔ اسی لیے آر جے ڈی کی ورچوئل میٹنگ آج شہاب الدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شروع ہوئی۔ اس سے قبل آج تیجسوی یادو کے قریبی اور پسندیدہ ایم ایل اے ریت لال یادو سیوان پہنچے اور شہاب الدین کے بیٹے اسامہ سے ملاقات کی۔لیکن حدیہ ہے کہ تیجسوی یادوکوخودجانے کاموقعہ نہیں ملاہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ میٹنگ نقصان کو قابو کرنے کے لیے ہے۔تاہم شہاب الدین اور یادو کی سیاست مختلف رہی ہے۔ شہاب الدین کا کام کا میدان سیوان تھا ، جبکہ ریت لال یادو کا کام کا علاقہ پٹنہ کے آس پاس تھا۔ شہاب الدین کے گھر ریت لال یادو کی آمد اور اسامہ سے ان کی ملاقات بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ریت لال یادو کاشمار اس وقت تیجسوی یادو کے بہت قریب کے ایم ایل اے میں ہوتا ہے۔ ریت لال کو پچھلے کئی مواقع پر تیجسوی یادوکے ساتھ کھڑا دیکھا گیا ہے۔ریت لال یادو نے اسامہ سے ملاقات کی اور انہیں تیجسوی یادو کا پیغام پہنچایا۔ ظاہر ہے ، اگر اسامہ نے تیجسوی اور آر جے ڈی کی کھلے عام حمایت کی تو شہاب الدین کے حامیوں اور اقلیتی رہنماؤں کی ناراضگی کسی حد تک قابوپائے گی۔آر جے ڈی کے سابق ممبر پارلیمنٹ شہاب الدین کی دہلی کے ڈی ڈی یو اسپتال میں کورونا کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔

شہاب الدین کے انتقال کے بعد سے ، ان کے حامی لالو یادو اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ناراضگی دکھا رہے ہیں۔ شہاب الدین کے حامیوں کا ماننا ہے کہ لالو یادو اور اس کے اہل خانہ نے شہاب الدین کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔لالو کے کنبہ کی تدفین میں کوئی مدد نہیں ملی۔ یہاں تک کہ شہاب الدین کی میت کو دہلی سے سیوان نہیں لایا جاسکا۔ آر جے ڈی کے ممبران بھی اس معاملے پر ناراض ہو رہے ہیں۔ لالو خاندان کا خیال ہے کہ اگر شہاب الدین کا کنبہ ناراض ہے توان سے ایک بہت بڑا مسلم ووٹ بینک ختم ہوجائے گا۔ تیجسوی یادوکے قریبی ارکان اسمبلی اب اس ناراضگی کو دور کرنے میں مصروف ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close