بہار و سیمانچل

قاری معین الدین گیاویؒ بزرگوں کے حقیقی وارث اورامین تھے:مولانااحمدولی فیصل ر حمانی

مونگیر 4مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) قاری معین الدین گیاوی ؒ کے انتقال سے بہارمیں علم کاایک اورچراغ بجھ گیا۔مولاناقاری معین الدین گیاویؒصدرجمیعۃ علمائے بہارنے مدرسہ قاسمیہ گیاکی ترقی میں اہم کوششیں کیں۔وہ جیدعالم دین تھے،علم اورحلم کاسنگم تھے۔ان کے انتقال سے بہارکی علمی فضاسوگوارہے۔مسلسل اہل علم کاسایہ اٹھناناقابل تلافی نقصان ہے۔قاری صاحبؒ نے اپنے والدقاری فخرالدین گیاوی ؒ کی امانتوں کی بھرپورحفاظت کی،ان کے ادارے کوپروان چڑھایا،اپنے بزرگوں کی یادگاراورروایت کوسنوارااورنکھارا۔وہ اپنے بزرگوں کے حقیقی وارث اورامین تھے۔ان خیالات کااظہارمولانااحمدولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں نے مولاناقاری معین الدین گیاوی ؒ کے انتقال پراپنے تعزیتی پیغام میں کیا۔مولانااحمدولی فیصل رحمانی نے خانقاہ رحمانی سے ان کے تعلقات کاذکرکرتے ہوئے کہاہے کہ مولاناقاری معین الدین گیاویؒکے والداورجدامجدکاخانقاہ رحمانی سے گہراتعلق رہاہے۔قاری فخرالدین گیاوی صاحبؒ،امیرشریعت مولانامنت اللہ رحمانی ؒکے قدرداں تھے۔ان کے جدامجدخانقاہ رحمانی کے بزرگوں سے وابستہ رہے۔ان کے انتقال سے علمی وتحریکی دنیامیں بڑاخلاپیداہواہے۔آپؒ سماجی تنظیموں سے بھی وابستہ رہے اورملت کی مختلف جہات سے خدمت کی۔مولاناکے انتقال پرخانقاہ رحمانی میں دعائوں کااہتمام کیاگیااور مغفرت کی دعاء کی گئی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close