بہار و سیمانچل

نواده میں انٹرمیڈیٹ امتحان میں اول مقام حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات حوصلہ افزائی والی رقم سے محروم،بچے نااُمیدی کےشکار

نواده (محمد سلطان اختر) نوادہ ضلع کے بہت سے اسکول و کالیج میں طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی والی رقم نہیں ملی بہُت سے طالبہ و طالبات رقم سے محروم۔موصولہ اطلاعات کے مطابق پروجیکٹ کینیا ودیالیے پکری برانواں میں 2020 سال کی حوصلہ آفزائی والی رقم پانچ طالبات کو نہیں ملی ہے، تمام طالبات کا کہنا ہے کہ ہم نے تمام کاغذات تمام ڈاکومنٹ اسکول کے پرنسپل کو کئی بار جمع کیا مگر کچھ حاصل نہیں ہوا،نکہت پروین کو پرنسیپل نے نواده اقلیت آفس جانے پر مجبور کیا اقلیت آفیسر نے کہا یہاں پرنسیپل خود سے کاغذات جمع کرائیں آپ طالبہ و طالبات کو آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرنسیپل سے ہمارے نمائندے نے جب بات کی تو اپنی صفائی دکھاتے ہوئے کہا کہ میں پانچ محروم طالبات کا لسٹ چسپاں کر دیا ہے۔اخبارمیں بھی نکال دیا ہے۔۔ بس یہیمیراکام ہے کسی کو رقم ملے نہ ملے مجھے کُچھ لینا دینا نہیں۔انکی گُفتگو میں ہی تعصبیت چھلکتی ہے۔کیوں کہ جب نمائندے نے کہا کہ اُردو کیسی اخبار میں شائع نہیں ہوئی ہے خبر تو اُنہوں نے کہا میں اُردو اخبار میں کیوں دوں اُردو سے ہمیں کیا مطلب،یہ ایک پرنسپل کے بول ہیں اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے بچوں کو کیا علم ملتا ہوگا جو لسان کی بُنیاد پر تعصب رکھتی ہیں، نکہت پروین بنت امتیاز انصاری جس کا رول نمبر 20010073ہے،رول کوڈ، 23034ہے،دوسری الفا پروین بنت محمد فاروق انصاری جس کا رول نمبر 20010003ہے رول کوڈ 23034ہے،اسی اسکول میں مزید تین طالبات اور ہیں۔۔ سبھی طالبات کو اسکول سے اقلیت آفس اور نوادہ آفس سے اسکول کی خاک چھان رہی ہیں، اب تک لا حاصل رہی، اسی طرح سے نوادہ ضلع میں عراقی گرل اسکول و کے ایل ایس کالج گاندھی انٹر کالج اور نہ جانے کتنے اسکول کالجز ہیں جہاں اب تک طلبہ و طالبات کو حوصلہ افزائی والی رقم نہیں ملی ہے کچھ طالبات کا 2016 کی رقم باقی ہے۔ اب تک ان بچوں اور بچیوں کو حوصلہ آفزائی کی رقم نہیں ملی ہے۔ کُچھ کا دلہن والی رقم بھی نہیں ملی ہے۔۔ 2018 میں بھی کچھ بچیوں کو اب تک رقم نہیں ملی ہے،سائیکل کی رقم بہت بچیوں کو نہیں ملی ہے۔سب اسکول اور نوادہ دفتر کے چکّر کاٹ کر تھک ہار کر چھوڑ دیتی ہیں۔اِس لئے اقلیتی محکمہ کے سیکریٹری اور چیئرمین سے تمام گارجین طلبہ و طالبات مدِ بانہ و مخلصانہ التماس و درخواست کرتے ہیں کہ نوادہ ضلع اقلیتی طلبہ و طالبات پر نظر کرم کریں، اور کس بنیاد پر کس وجہ کر رقم اب تک زیر التوا ہے اور ان بچوں کو اب تک نہیں ملی ہے، کبھی یہ رقم پٹنہ لوٹ جاتی ہے تو کبھی ضلع میں ہی اٹک جاتاہے ۔قصواروں کو سزا دی جائے۔یہ اِنصاف کا تقاضہ ہے۔ کیوں طلبہ و طالبات نوادہ سے لے کر اسکول اور کالج تک پریشان ہو کر تھک ہار چھوڑ دیتے ہیں اور بیٹھ جاتے ہیں۔اس معاملہ پر نظر ثانی کی جائے اور ان بچوں کے اکاؤنٹ تک یہ رقم کو براہ راست اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرایا جائے تاکہ بچوں کی حوصلہ افزائی ہو اور آگے پڑھنے میں معاون ثابت ہو۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close