قومی

بہار،سونپوراورکانپورمیں نابالغ لڑکیوں کا اغواء،عصمت دری اور قتل کی سخت مذمت کرتےہیں:ایم ڈبلیو انصاری (آئی پی ایس،ریٹائرڈ ۔ڈی جی)

بھوپال (ہندوستان اردو ٹائمز) بہار کے اعظم نگر علاقے کے سالماری میں ایک نابالغ لڑکی کی اغواء ، عصمت دری اور قتل ،سون پور بہار میں ایک اور لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اورکانپور جنپد کے ساڑھ تھانا علاقے کے بوہارا میں ایک لڑکی کے ساتھ عصمت دری وقتل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس گھنائونے جرم کے معاملے میں پولیس کی طرف سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے عوام کو گمراہ کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔

اس معاملے میں حکومت اور پولیس کا رویہ حیران کن ہے۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہیرا پھیری کرکے واقعے کو خودکشی کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ یہ اغواء، عصمت دری اور قتل کا واضح کیس ہے۔ پولیس کی جانب سے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی دانستہ(جان بوجھ کر) کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پولیس مجرموں اور اقتدار میں رہنے والے چند لوگوں کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ جو آئین اور قانون کے مطابق کام نہ کرکے سیاسی پارٹی جو برسراقتدار ہے اس کے کہنے کے مطابق یا اس کے رخ کو بھانپ کر سیاسی رہنمائوںکو خوش کرنے کے لیے ان کی منشاء کے مطابق کام کرتی ہیں۔

ایسا رویہ ملک میں جرائم میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ مجرموں کو قانون اور پولیس کا کوئی خوف نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں عصمت دری، قتل اور دیگر جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ہم، حکومت ، انتظامیہ اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذکورہ معاملے میں فوری کارروائی کریں اور مجرمین کو جلدازجلد قانون کے مطابق سز ادیں۔ تاکہ ملک کے قانون پر عام آدمی کا اعتماد بحال ہو۔

یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ جس ملک کی حکومت خواتین کے وقار کو برقرار رکھنے کا اعلان کرتی ہے اور ’’بیٹی بچائو ، بیٹی پڑھائو‘‘کا مہم زور و شور سے چلاتی ہے،لیکن ایسے گھنائونے جرائم انہیں ریاستوں میں ہوتی ہیں جہاں ان کی حکومتیں قائم ہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ہمیں کس طرف لے جارہا ہے؟۔کیا بھارت میں خواتین کو آئین میں دی گئی آزادی کا حق حاصل ہے؟۔کیا آج بھی خواتین آزادانہ طور پر بے فکرہوکر اپنی تحفظ کو یقینی جانتے ہوئے کہیں بھی کبھی بھی نکل کرگھوم سکتی ہے ؟

اس واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی خبر کو مین اسٹریم میں کہیں جگہ نہیں ملی ،جبکہ بہار کا ’’سونو‘‘ جوایک چھوٹا بچہ ہے اس کی قابلیت اور ذہانت کا اس قدر چرچا کیا جارہا ہے کہ اس کا انٹرویو اور گودلینے والوں کا ایک تانتا سابندھ گیا جو ہنوز جارہی ہے، لیکن ماہ نور کا اجتماعی ریپ ہوا اس کے جسم کی ہڈیاں توڑدی گئیں، اس کے لب ورخسار کو رات بھر نوچا گیا،پھر اسے بہیمانہ طریقے سے قتل بھی کردیا گیا۔لیکن میڈیا کے سروں پر جوں تک نہیں رینگی۔میڈیا کے ساتھ ساتھ تمام ادارے جیسے:ریاستی ہیومن رائٹ کمیشن،نیشنل ہیومن رائٹ کمیشن ،ریاستی ونیشنل ویمن کمیشن اور تمام انسانی حقوق کی بات کرنے والی تنظیمیںکہاں ہیں اور کیا کرررہی ہیں؟

یہ تمام واقعات اسی قسم کے انجام دیئے گئے جیسا کہ نربھیا کانڈ،ہاتھرس کانڈ وغیرہ وغیرہ اوران تمام معاملوں میںگودی میڈیا خاموش ہے۔ یہ خونخوار درندے غریب بچیوں جو آواز اٹھانے کے قابل نہیں ایسے بچیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔حکومت بہار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جن مجرمین کی شناخت ہوگئی ہے اس کو جلد ازجلد گرفتار کیا جائے اور جن مجرمین کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے جلدی پتہ لگایا جائے اور ان مجرمین کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی جائے ۔ ان تمام معاملے کے مجرمین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے تاکہ متاثرین اور ان کے والدین کو انصاف مل سکے۔

٭٭٭٭٭
ایم ڈبلیو انصاری (آئی پی ایس ،ریٹائرڈ ۔ڈی جی)
ای۔میل:- mwansari1984@gmail.com / taha2357ind@gmail.com

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button