بین الاقوامی

بھارتی نژاد تاجر گپتا برادران دبئی میں گرفتار

بھارتی نژاد جنوبی افریقی شہری گپتا برادران راجیش اور اتول گپتا کو دبئی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنوبی افریقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان دونوں پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

بھارتی نژاد جنوبی افریقی شہری راجیش گپتا اور اتول گپتا جنوبی افریقہ کے سابق صدر جیک زوما کے قریبی دوست ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے زوما سے اپنے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی طور پر مالی فائدے حاصل کیے اور اہم اعلٰی سرکاری عہدوں پر حکام کی تقرریاں کرائیں۔

گپتا برادران تاہم ان الزامات اور کسی بھی طرح کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

امارات میں حراست

جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برس اپریل میں ایک حوالگی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سائرل رامفوسا کو امید تھی کہ اس معاہدے سے گپتا برادران کو وطن واپس لانے میں مدد ملے گی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا گپتا برادران کو گرفتار کرنے کے بعد جنوبی افریقہ بھیجا جارہا ہے؟

جنوبی افریقہ کی وزارت برائے انصاف نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ”متحدہ عرب امارات اور جنوبی افریقہ کی قانون نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

سن 2018 میں جب صدر جیکب زوما کو عہدے سے برطرف کیا گیا تھا تو گپتا بردران نے بھی جنوبی افریقہ چھوڑ دیا تھا۔ زوما کے خلاف الزامات کی انکوائری کے لیے سن 2018 میں ایک کمیشن قائم کی گئی تھی۔

انٹرپول نے گپتا برادران کی گرفتاری کے لیے جولائی 2021 ء میں ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا تھا۔ اس عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ گپتا برادران 25ملین رینڈ یا 1.6ملین ڈالر کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے کیس میں مطلوب ہیں۔ یہ کیس ان کی کمپنی کو دیے جانے والے ایک کانٹریکٹ کے متعلق ہے۔

گرفتاری کا خیر مقدم

جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک الائنز نے گپتا برادران کی گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے۔

ڈیموکریٹک الائنز نے ایک بیان میں کہا،”ہمیں امید ہے کہ یہ گرفتاریوں کا آغاز ہے اور ان لوگوں، جو ملک میں ہیں یا ملک سے باہر چلے گئے ہیں، کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جو برسوں تک ہمارے ملک کو لوٹتے رہے اور جنوبی افریقہ کے کروڑوں عوام کو آج درپیش مشکلات اور مصائب کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔‘‘

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button