کالم

بچوں نوجوانوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خودکشی کا بڑھتا رجحان لمحہ فکریہ : از۔ ذوالقرنین احمد

ممبرا میں ٹی وی یا موبائل فون میں سیرئیل نہیں دیکھنے کی وجہ سے چھوٹی بہن نے کھاڑی میں کود کر خودکشی کرلی ۔یہ خبر ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ذرا سی بات پر یہ چھوٹے چھوٹے بچے جو ابھی بالغ بھی نہیں ہوئے ہے کسطرح سخت قدم اٹھا رہے ہیں۔ کہی خبر آتی ہے کہ بچے کو موبائل پر گیم کھیلنے سے منع کرنے پر بچے نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ یہ سب چیزیں آخر ہمارے معاشرہ میں کہا سے پنپ رہی ہیں۔ اس کو وجہ یہ بھی ہے کہ والدین کی تربیت میں بہت بڑا خلا ہے۔ اور ان ویڈیوں سیرس کا جو ایسے حادثات کی نقل بتاتے ہیں یا جو پچھلے ایسی کیسز ہوئی ہے اس کو فلماتے ہیں اور یہی سب بچے دیکھ کر سیکھ رہے ہیں۔ آج کی جو نسل ہے یہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی ہوچکی ہے۔ یہ بچے وہ سب کام کم عمری میں کرنا چاہتے ہیں جو بڑے ہوکر انہیں کرنا ہی ہے۔ یا ایسی چیزوں کی خواہشات کی تکمیل میں وہ غلط قدم اٹھا رہے ہیں جو انکی پہنچ سے دور ہے۔ جبکہ ابھی انکی عمر بہت کم ہے جو بلوغت کو بھی نہیں پہنچے۔ لیکن معاشرہ میں اس طرح کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن ہم اس طرح کی خبروں کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے کو چل دیتے ہیں۔

اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
بچپن ہی سے بچوں کی تربیت اسلامی اقدار پر کیجیے معاشرے میں پیش آنے والے مختلف حالات اور پریشانیوں سے لڑنے اور اس کا مقابلے کرنے کی صلاحیت بچوں میں پیدا کیجیے ان کے اندر برداشت، خوداعتمادی، صبر، استقامت، کا مادہ محنت کی عظمت پیدا کیجئے۔ تعلیم کے ساتھ معاشرتی زندگی کیسے گزارنی ہے اسکا پریکٹیکل پیش کیجئے ۔ بچوں کی نفسیات اور جذبات کا خیال رکھے، انہیں نظر انداز مت کیجئے جب بچے یا جوانوں کی ضروری خواہشات پوری نہیں ہوتی ہے انکے اندر مختلف قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں۔ چاہے وہ فطری خواہشات ہو، یا کوئی انکی من چاہی خوشی ہو وہ اسکی تکمیل کیلئے غلط راستے تلاش کرنا شروع کردیتے ہے۔ اور جب والدین کو اسکی حقیقت پتہ چلتی ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ کہ بچے انکی نظروں سے چھپ کر معاشرے کی نگاہوں سے چھپ کر کس طرح اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ بچوں کی غیر اخلاقی اور غیر ضروری، حرام خواہشات کی تکمیل کریں بلکہ ایسی کاموں سے انہیں ضرور روکے لیکن ایسے ماحول میں بچوں کی تربیت کریں کہ غلط خواہشات انکے اندر پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ اپنی زندگی کو اسلامی اقدار کے مطابق گزاریں تاکہ وہ بچوں کیلئے عملی نمونہ ثابت ہو۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close