بنگلور

بنگلوو کے مارتھلی میں غریب مزدوروں کی چھونپڑیوں کا انہدام مہنگا پڑنے لگا ، ہائی کورٹ میں سوالات کے بوچھاڑ ، بی بی ایم پی اور حکومت گھیرے میں

بنگلورو، 11/فروری (ہندوستان اردو ٹائمز) بنگلورو شہر کے مارتہلی میں شمالی کرناٹک اور شمالی ہند کے علاقوں سے آخر ایک خالی زمین میں آباد غریب مزدوروں کے جھونپڑیوں کو منہدم کردیئے جانے کے معاملہ میں پیر کے روز ریاستی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور بی بی ایم پی کو خوب لتاڑا اور ہدایت دی کہ اگلے ایک ماہ کے اندر اس علاقے میں جھونپڑے گنوانے والے افراد کی باز آباد کاری کا انتظام پورا کر لیا جائے اور دو ہفتے بعد عدالت کو بتایا جائے کہ ان کی باز آباد کاری کے لئے بی بی ایم پی کی طرف سے کیا کارروائی کی گئی ہے۔

عدالت نے ہدایت دی کہ ان لوگوں کی باز آباد کاری کے لئے مناسب منصوبہ سازی کی جائے۔ ان لوگوں کو بنیادی رہائش کی سہولت فوراً فراہم کی جائے ۔ ہائی کورٹ نے ہدایت دی کہ تمام متاثرین کو رہائش کے لئے سہولت مہیا کرائی جائے ۔ عدالت میں حکومت اور بی بی ایم پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ انہدامی کارروائی بی بی ایم پی یا حکومت کی طرف سے نہیں کروائی گئی تاہم اس پر عدالت نے بی بی ایم پی اور حکومت کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں عدالت کے سامنے جو تصویریں پیش کی گئی ہیں ان تمام میں انہدامی کارروائی انجام دیتے ہوئے بی بی ایم پی کے کارندوں کو دکھایا گیا ہے ۔پولیس والوں کی نگرانی میں انہدامی کارروائی کی جارہی ہے۔ اس لئے بی بی ایم پی اور ریاستی حکومت کو عدالت کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے وہ تمام 144 متاثرہ خاندانوں کی باز آباد کاری کے لئے ضروری قدم اٹھائے۔

اس انہدامی کارروائی کا چیلنج کرتے ہئوے پیپلز یونین آف سیول لبریٹز (پی یو سی ایل ) کی طرف سے درج عرضی کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے یہ سوال اٹھایا کہ بی بی ایم پی نے اس زمین پر آباد پاشندوں کو کس قانون کے تحت بنگلہ دیشی قرار دیا اور کس قانون کے تحت ان کے مکانات گرائے پہلے اس کی صراحت کرے۔ ان پاشندوں کو بنگلہ دیشی قرار دینے کے لئے بی بی ایم پی کے پاس کونسے دستاویزات موجود ہیں۔ بی بی ایم پی کے کس عہدیدار نے اس علاقے کا معائنہ کر کے یہ طے کیا کہ یہاں بنگلہ دیشی شہری آباد ہیں۔ اگر واقعی بنگلہ دیش کے باشندے تھے تو کیا انہیں نکل جانے کےلئے کوئی نوٹس دیا گیا ۔ افسروں نے کس قانون کے تحت ان لوگوں کی جھونپڑیوں کو توڑنے کے لئے کارروائی انجام دی۔ عدالت نے بی بی ایم پی کو ہدایت دی ہے ان تمام سوالات کے جواب کے طور پر اگلی سماعت کے دوران ایک حلف نامہ دائر کیا جائے۔

اس کیس میں عدالت نے چیف سکریٹری ، ہوم سکریٹری ، ہاوزنگ سکریٹری ، پرنسپل سکریٹری (بی بی ایم پی) ، کمشنر ، بی بی ایم پی ، بنگلورو پولیس کمشنر ، مارتہلی پولیس تھانے کے انسپکٹر اور دیگر کے نام نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ۔ اس معاملہ میں لاپروائی برتنے والوں پر کی گئی کارروائی کے بارے میں ہائی کورٹ کے سوال پر ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مارتہلی کے انسپکٹر گریش کو ملازمت سے معطل کیا گیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close