بنگلور

بابائے قوم گاندھی جی کی برسی کے موقع پر’گاندھی کے قاتل دیش کے قاتل’کے عنوان پر ایس ڈی پی آئی کا ملک گیر احتجاج

بنگلور۔۳۱؍جنوری:( پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)نے گاندھی جی کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں ‘گاندھی کے قاتل ، دیش کے قاتل ‘کے عنوان پر احتجاجی مظاہروں اور سمینار کا انعقاد کیا۔ احتجاجی مظاہروں میں ناتھورام گوڈسے کے پتلے کو پھونکا گیا۔ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے میسور گاندھی اسکوائر ،میسور پر احتجاجی مظاہرے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ 30جنوری 1948وہ دن تھا جب بھارت میں پہلا دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ناتھورام گوڈسے اور اس کے ساتھی غنڈوں نے نہ صرف ہمارے بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کے سینے پر گولی چلائی بلکہ خود اپنے ملک کے دل پربھی گولی چلائی تھی۔یہ امن اور ہم آہنگی کو بگاڑنے اور تباہی کو ہوا دینے والی ایک غیر انسانی حرکت تھی۔گاندھی جی کو صرف اس وجہ سے ماراگیا تھا کہ انہوں نے برطانوی حکومت کے چنگل سے ملک کو آزاد کرانے کیلئے مجاہدین آزادی کی رہنمائی گی تھی۔وہ عدم تشدد، ہم آہنگی اور سیکولرازم کے ایک اعلی نظریہ نگار تھے۔ گوڈسے ہندوتوا قوم پرستی کا زبردست حامی تھا۔گوڈسے اور اس کے ہندوقوم پرست غنڈوں نے ہندو ئوں اور مسلمانوں کے اتحاد کو کھبی برداشت نہیں کیا۔یہ جنونی اور فر قہ پرست عناصر متعدد وجوہات کے بنا پر کھبی بھی گاندھی جی کو پسند نہیں کرتے تھے۔گاندھی جی کے نظریات اور سرگرمیاںایسے فرقہ پرست گروہوں کیلئے ان کے راستے کے کانٹے تھے جو اعلی ذات کی بالادستی کے تسلط کے خواہشمند تھے اور مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کے درپے تھے۔ ان فاشسٹ عناصرنے تشدد اور مذہبی جنونیت کے راستے کی پیروی کی اور اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے کھبی بھی خون ریزی اور تباہی مچانے پر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔گاندھی جی کا قتل کرکے ، قاتل ناتھورام گوڈسے اور اس کے ساتھیوں نے آزاد ہندوستان میں خونی فرقہ وارانہ فاشزم کے ابواب کھول دیا تھا۔ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے مزید کہا کہ ہر سال،جب محب وطن ہندوستانی گاندھی جی کو ان کے قتل کے دن یاد کرتے ہیں ، چند دہشت گردقوتیں گوڈسے کو ملک کے ایک ہیرو کی حیثیت سے پسند کرتے ہیں جو ہمارے ملک کیلئے سراسر شرمندگی کا باعث ہے۔ اس وقت،ہندو مہاسبھا جیسے منوادی انتہا پسند گروپ پورے جذبے کے ساتھ گوڈسے کی تعریف کررہے ہیں۔ وہ گوڈسے کے نام سے ایک مندر بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور عوامی مقام پر اس کا مجسمہ نصب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے عظیم اصولوں کی تضحیک کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ حکومت کے ذمہ دار افراداس سلسلے میں پہلے سے طے شدہ خاموشی کو برقرار رکھتے ہوئے ان تباہ کن عناصر کی حمایت کررہے ہیں۔ سنگھ پریوار کے ذریعے اقلیتی برادری کے خلاف جاری مہم ہمارے پورے ملک کے امن ، ہم آہنگی اور سا لمیت کیلئے ایک بہت بڑا خطر ہ ہے ۔ اس دن گوڈسے نے گاندھی جی کا قتل کیا تھا اور آج گوڈسے کے پیروگار ورزانہ دیش کا قتل کررہے ہیں ۔برسر اقتدار حکومت کی سر پرستی میں مختلف ہندوتوا عناصر سے ہمارے ملک کے سیکولرا زم اور جمہوریت جیسی عظیم اقدار کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ یہ فاشسٹ عناصر ہٹلر ماڈل قوانین کے ذریعے ہندوستان کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیںاور اس سر زمین کے شہریوں کو غیر قانونی غیر ملکی قرار دیتے ہوئے ہندوستانی آئین کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔ جوسیکولرازم ، کثرتیت اور جمہوریت کی پاسداری کرتا ہے اور سبھی کی شہریت کو یقینی بناتا ہے۔ فاشسٹ حکومت اور قوتیں حکومت کے عوام دشمن پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پورے ملک میں فعال طور پر منوادی ایجنڈے کو نافذ کیا جارہاہے۔ ہمیں، اس ملک کے امن اور ہم آہنگی سے محبت رکھنے والے شہریوں کو اس ملک کو گوڈسے کے پیروکاروں کے چنگل سے بچانے اور گاندھی جی کے نظریات او ر اقدار کو برقرار رکھنے کیلئے ایک دوسرے سے متحد ہونا ہوگا۔ اس تاریخی دن کے موقع پر ، سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ہر ہندوستانی شہری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سیکولرازم کو برقرار رکھنے اور فاشزم کو شکست دینے کا عہد کریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close