بنگلور

عید قرباں کا مقصد مسلمانوں میں ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہے : حضرت مولانا رابع حسنی ندوی

حضرت مولانا رابع حسنی ندوی صاحب کی زیر صدارت مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ کانفرنس کی اختتامی نشست کا انعقاد!
مولانا عمرین محفوظ رحمانی اور مولانا ابو طالب رحمانی کا خصوصی خطاب!

ٍ بنگلور، 20جولائی (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام گزشتہ ایک ہفتے سے جاری عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی اختتامی نشست کل رات منعقد ہوئی۔ جسکی صدارت عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں حضرت نے فرمایا کہ قربانی بلا شبہ ایک بڑی اہم عبادت ہے۔ جو ہر صاحب نصاب پر واجب ہے۔ آپؐ کا ہر سال پابندی سے قربانی کرنا اسکی اہمیت و فضلیت اور عند اللہ اسکے بلند مرتبہ ہونے کی دلیل ہے۔حضرت نے فرمایا کہ عید الاضحٰی حضرت ابراہیم ؑکی قربانی اور جاں سپاری کی یادوں کی سوغات لاتی ہے، جو انہوں نے اپنے رب کے حضور میں پیش کی تھی۔ جو قربانی اور جانثاری کی شاندار مثال ہے۔ حضرت ندوی مدظلہ نے فرمایا کہ عید قرباں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اس انوکھے عمل کی یاد دلاتا ہے جب آپ ؑ نے اپنے نور نظر لخت جگر اور بے حد فرمانبردار بیٹے کو اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے اپنی طرف سے قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے تھے اور اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کر دکھایا تھا جس کو پورا کرنا ہمہ شمہ اور بڑے سے بڑے کے بس میں نہیں تھا اور نہ ہے۔ بات کہنے میں بڑی آسان لگتی ہے کہ رضائے الٰہی کیلیے ایک باپ نے اپنے اکلوتے فرزند کی گردن پر چھری چلادی۔ تصورات کی دنیا میں یہ امر مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ لیکن دل اگر نور ایمانی سے معمور ہو اور جذبہئ روحانی سے روشن ہو جسکا ظاہر معرفت خداوندی سے مزین اور جسکا باطن محبت و اطاعت اور تسلیم و رضا سے منور ہو تو خدا کی محبت میں ہر چیز کا لٹانا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ قربانی کے لیے اخلاص ضروری ہے۔ اخلاص اللہ کو بے حد پسند ہے۔ اخلاص کے نتیجہ میں بظاہر معمولی عمل بھی اللہ کے نزدیک غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی یاد میں کی جاتی ہے۔ وہ ان دونوں ہستیوں کا اخلاص ہی تھا اور اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے تابع فرمان کرنے کا جذبہ تھا جو اللہ کو اس قدر پسند آیا ہے کہ اس نے قیامت تک آنے والے ان تمام انسانوں کے لیے جو ایمان لائیں گے اس عمل کو لازم قرار دے دیا۔ حضرت رابع صاحب نے فرمایا کہ قربانی تو محض ایک علامت ہے، خون کا بہانا اور جانور کی گردن پر چھری کا چلانا یہ صرف علامت اورنشانی ہے، حقیقی قربانی تو اپنے جذبات، خواہشات، اپنے ارمانوں اور آرزؤں کی دینی ہے، خدا عزوجل کے احکام کے سامنے اپنے کو خم کرنا ہے، ہر حکم خدا وندی کے سامنے اپنے آپ کو جھکا لینا ہے۔ اسی کے ساتھ قربانی کی اس عظیم یادگار سے ہمیں پیغام یہ ملتا ہے کہ آج اس جانور کا خون اللہ تعالیٰ کے حکم پر بہایا جا رہا ہے، اگر ضرورت پڑی تو دین اسلام کی خاطر اسی طرح اپنے مال اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دوں گا۔ حضرت مولانا رابع حسنی ندوی صاحب نے فرمایا کہ ضرورت ہے کہ ہم قربانی کی اس روح اور پیام و پیغام کو سمجھیں اور اس سے حاصل ہونے والے دروس و عبرت سے نفع اٹھائیں اور زندگی کے جس موڑ پر ہم سے جیسی قربانی مانگی اور چاہی جائے ہم اس کے لئے اپنے کو تیار رکھیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ عید قرباں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان یادگار اور سنت ہے جس میں انہوں نے حکم الٰہی کی تعمیل میں اپنے بڑھاپے کے سہارے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ یہ قربانی ہماری اطاعت اور ہماری آمادگی کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم حکم خدا پر اپنی محبوب شے کو بھی قربان کرنے سے ذرا بھی دریغ نہیں کریں گے۔ عید قرباں کا مقصد بھی جذبہئ قربانی کو بیدار کرنا اور اپنی عزیز سے عزیز تر چیز کو حکم ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول میں قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا یہی قربانی ہے۔ اس سے ہم کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی مقصد زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی خواہشات پر رب کائنات کی مرضیات کو ترجیح دے اور فکر آخرت میں مگن رہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے فرمایا کہ عید قرباں کے موقع پر پوری دنیا میں مسلمان حکم خداوندی کی تعمیل میں کثیر تعداد میں جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ یقیناً قربانی ایک مہتم بالشان عمل ہے اور بلاشبہ بڑے شوق وذوق سے مسلمانوں کو قربانی کرنی بھی چاہئے۔ اسی کے ساتھ ہمیں صفائی و ستھرائی کا بھی بھر پور خیال رکھنا چاہیے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو صفائی ستھرائی اور نظافت و پاکیزگی کا بڑا تاکیدی حکم دیا ہے بلکہ اسے نصف ایمان قرار دیا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور صفائی ستھرائی کا خوب خیال رکھیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناقدری کرتا ہے تو اللہ اس نعمت کو واپس چھین لیتا ہے۔ ذی الحجہ کا مبارک مہینہ میں پوری دنیا سے لوگ حج بیت اللہ کیلئے سفر کرتے تھے لیکن کرونا کی وجہ سے امسال بھی ہم لوگ اس سے محروم رہے۔ شاید ہم لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی ہے، ہمیں اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی چاہیے اور اسکی قدر کرنی چاہیے۔

قابل ذکر ہیکہ یہ عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن حافظ محمد عمران کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی نے مرکز کی خدمات پر مختصر روشنی ڈالی۔صدر جلسہ سمیت تمام حضرات علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close