بنگلور

بغیرگناہ کے 4 سال جیل میں رہے حبیب میاں کو این آئی اے عدالت نے بری کیا

بنگلورو21جون(ہندوستان اردو ٹائمز) اگرتلہ کے 41 سالہ حبیب میاں نے بغیرکسی غلطی کے 4 سال جیل میں گزارے۔ اب بنگلورو کی این آئی اے عدالت نے انہیں بری کردیا ہے۔ان پر دہشت گردوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یو اے پی اے کے تحت انھیں 4 سال تک بغیر کسی مقدمے کی بنگلورو کی جیل میں رہنا پڑا۔ 2005 میں ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس پر دہشت گردوں کے حملے کے سلسلے میںحبیب میاں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حبیب کی طرح اس طرح کے 27 ملزمان اس وقت کرناٹک کی جیلوں میں بند ہیں ، جنہیں 2013 میں بنگلور میں بی جے پی کے دفتر کے باہرمبینہ دھماکے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ابھی ان کی سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔

حبیب میاں اگرتلہ میں موٹر گیرج میں میکینک تھے۔ وہ چار سال کے بعد جیل سے رہا ہوئے ہیں۔لیکن یہ غم اس خوشی پر بھاری ہے کہ والد کی صدمے کی وجہ سے موت ہوگئی۔حبیب میاں نے کہاہے کہ مجھے 4 سال جیل میں رکھاگیا۔ کوئی ٹرائل نہیں۔ مجھے اب رہا کیا گیا ہے ۔اس صدمے کی وجہ سے میرے والد کی موت ہوگئی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میری غلطی کیاتھی۔پولیس کے مطابق حبیب میاں پر ملزموں کوپاکستان فرار ہونے میں مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اوربغیرکسی مقدمے کے 4 سال تک جیل میں رکھا گیا تھا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close