بنگلور

ایس ڈی پی آئی قومی ورکنگ کمیٹی اجلاس میں ای وی ایم پرپابندی لگانے سمیت پانچ اہم قرارداد منظور

بنگلور۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ا یس ڈی پی آئی) کی قومی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس 10اپریل 2021کو بنگلور میں منعقدا ہوا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی نائب قومی صدر دہلان باقوی نے کی۔ قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد،قومی جنرل سکریٹریان عبدالمجید، الیاس محمد تمبے،قومی سکریٹریان سیتارام کھوئیوال، ڈاکٹر محبوب شریف عواد، محترمہ یاسمین فاروقی اور دیگرقومی ورکنگ کمیٹی ممبران شریک تھے۔ اجلاس میں مختلف سماجی و سیاسی امور پر تبادلہ خیا ل کیا گیا اور مندرجہ ذیل قراردادوں کو منظور کیا گیا۔ 1)۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ 3کروڑ ریشن کارڈ کی منسوخی بہت پریشان کن او ر غیر ضروری ہے۔ آدھار کارڈ کو نہ جوڑنے کی وجہ بتا کر مرکزی بی جے پی حکومت نے اس طرح کی فرسودہ کارروائی کا سہارا لیا ہے جس سے لوگوں کو سخت پریشانیوں اور محرمیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ ملک کے عوام حکومت کی خراب حکمرانی سے پریشان ہیں اور حکومت کے اس بے وقوفانہ عمل نے لوگوں کی زندگی میں مزید پریشانیوں کا اضافہ کردیا ہے۔ حکومت کو یہ جان لینا چاہئے کہ آدھار کارڈ کو جوڑنا اس ملک کے غریب اور مزدوروں کو خوراک سے انکار کرنے کا معیار نہیں ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس ملک کے ہر شہری کے خوراک کی حفاظت کو یقینی بنائے اور اعداد وشمار حاصل کرنے کیلئے غریب عوام تک پہنچنے کیلئے مین پاور کو مامورکرے۔ ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت بغیر کسی شرط کے راشن کارڈز کو فوری بحال کرے اور فلاحی ریاست بنانے کیلئے کام کرے۔ 2)۔ گیان واپی مسجد ناپاک سازش سے ملک میں تباہی اور بدامنی پیدا ہوگی۔ فرقہ پرست عناصر عبادت گاہوں کے ذریعہ ملک میں غیر ضروری تنازعات پیدا کرنے اور ملک میں امن و آہنگی کی قیمت پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کیلئے بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ واراناسی کی گیان واپی مسجد کو تنازعہ میں گھسیٹنا ایک تازہ مثال ہے۔ فرقہ پرست فاشسٹ طاقیں آئندہ لوک سبھا انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایودھیا مسئلہ جیسے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور موجودہ حکومت کی سنگین ناکامیوں کو چھپانے کیلئے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مذہبی مقامات (خصوصی ایکٹ) 1991کے مطابق کے 15اگست 1947سے پہلے جو مذہبی مقامات جس حالت میں تھے، اسی حالت میں رہیں گے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی مذہبی فرقہ کی عبادت گاہ کو کسی دوسرے شکل یا حصے میں تبدیل نہیں کرے گا۔ 15اگست1947کو کسی عدالت یا اتھارٹی کے سامنے زیر التوا تمام مقدمات یا اپیلیں قانون کے نافذ ہونے کے بعد ختم ہوجائیں گے۔ لہذا، کسی کو بھی ملک میں کسی بھی عبادت گاہوں میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے خبر دار کیا ہے کہ اس مذموم سازش کا نیتجہ ملک میں تباہی اور بدامنی پیدا ہوگی اور اس سے ملک کے وقار اور عزت کو نقصان پہنچے گا۔ ایس ڈی پی آئی گیان واپی مسجد سے متلعق قانونی جنگ کی مدد کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو پارٹی گیان واپی مسجد پر کسی بھی طرح کی خلل ڈالنے کے خلاف قانونی لڑائی لڑے گی۔ 3)۔ ای وی ایم ووٹنگ سسٹم کو ہٹایا جائے اور انتخابی اصلاحات لایا جائے۔ ای وی ایم سے متعلق شکوک وشبہات، شفافیت اور قابل اعتبار نہ ہونے کے بارے میں بہت سارے شکایات کئے جاتے رہے ہیں۔جو ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے پیش نظر تشویش کا باعث ہے۔ ای وی ایم اور وی وی پیاٹ مشینوں کو مال ویئر کے ذریعے کس طرح نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اس کے بارے میں ابھی تک الیکشن کمیشن نے توجہ نہیں دی ہے۔ جب بھی اس طرح کے دعوے کو پیش کیا جاتا ہے تو الیکشن کمیشن اسے ٹیکنکل ایکسپرٹس کمیٹی (ٹی ای سی) کے حوالے کردیتا ہے۔ مزید یہ کہ الیکشن کمیشن صرف یہ نیتجہ اخد کرکے فائل کو بند کردے گا کہ ای وی ایم۔ وی وی پیاٹ سسٹم میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کا خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یہ کسی کو بھی ٹی ای سی کی رپورٹ کو ظاہر نہیں کرتا جو ثابت کرتا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ ای وی ایم مشین کی درستگی اور اعتماد کے بارے میں جانیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستانی انتخابات فرقہ وارانہ جذباتی استحصال کے ساتھ پیسہ اور طاقت سے مثاثر ہوتے ہیں یا ان کا غلبہ ہوتا ہے۔ ذات پات، جھوٹی یقین دہانیوں، فر قہ واریت، پاپولزم وغیرہ کے ساتھ پیسہ کی طاقت نے جمہوریت کے روح اور جذبے کو پامال کیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ مقننہ اس مسئلے پر عمل درآمد کرے گی اور انتخابی اصلاحات کی راہ ہموار کرے گی۔ 4)۔ حکومت ملک کے ہم آہنگی اور یکجہتی کی حفاظت کرے۔ہمارے ملک کے اجتماعیت اور سیکولرازم کو فرقہ وارانہ اور بدمعاش عناصر کے ذریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا جو مختلف مذاہب کے لوگوں میں باہمی منافرت، تشدد اور دشمنی پھیلارہے ہیں۔ حکومتوں کو اس طرح کی برائیوں کو روکنے کیلئے سخت اور غیر جانبدارانہ اقدامات کرنا ہوگا۔ دہلی فسادات کو بھڑکانے والوں پر کارروائی نہ کرنا ابھی بھی عوام کے ذہنوں کو پریشان کررہاہے۔ بی جے پی کے سیاستدان کپل مشرا، مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر، بی جے پی قائدین پرویش ورما، ابھاؤ ورما، بی جے پی کے ایم ستیاپال سنگھ، بی جے پی ایم ایل اے نند کشور گجر، موہن سنگھ بھشٹ، جگدیش پردھان، دہلی میں اشتعال انگیزی، حملوں اور فسادات کے اصل مجرم ہیں۔ ان مجرموں کے خلاف تحریری شکایات کے باوجود پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔ نرسنہا نند کی طرف سے فرقہ وارانہ نفرت انگیز تقریر پریس میٹ کا ایک اور حالیہ واقعہ اس کی ایک مثال ہے کہ حکومت کس طرح بدمعاش فر قہ پرست عناصر کو چھوٹ دیتی ہے اور ان کے اشتعال انگیزی پر خاموش رہتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی حکومت کو متنبہ کرتی ہے کہ اگر وہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں اور بدمعاش عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرے گی تو ملک کی ہم آہنگی اور یکجہتی تباہ ہوجائے گی۔ 5)۔ روہنگیا پناہ گزین کی حفاظت کی جانی چاہئے۔ ہمارے ملک سے بہت سارے واقعات کی اطلاع ہے کہ روہنگیاؤں کو ہراسان کیا جارہا ہے، ان پر حملہ کیا جارہا ہے اور ان کو رسوا کیاجارہا ہے۔ پر اسرار قوتوں کے ذریعہ ان کے مکانات نذر آتش کئے گئے اور وہ خوف و عدم تحفظ کے ساتھ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ یو این او نے قراردادیں منظور کیں ہے کہ روہنگیا پناہ گزین کو تحفظ فراہم کیاجانا چاہئے اور انہیں شناختی کارڈ دیا جائے۔ بد قسمتی سے شناختی کارڈ رکھنے والے روہنگیا افراد کو شر پسندوں نے نشانہ بنایا ہے۔ ایس ڈی پی آئی حکومت کو یاددلاتی ہے کہ بھارت کو یو این او کی قراردادوں کا احترام کرنا چاہئے اور روہنگیاؤں کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close