بنگلور

شمس الرحمن فاروقی بلند پایہ ادیب نقادتھے ، گلبرگہ میں حیدر آباد کرناٹک سوشل جاگرتی فورم کا تعزیتی جلسہ

گلبرگہ 3جنوری(آئی این ایس انڈیا) اردوزبان کے بلند پایہ ادیب نقاد صحافی اور شاعر شمس الرحمن فاروقی اور خانوادہ بندہ ؒ کے چشم وچراغ حضرت عارف اللہ حسینی المعروف عارف بابا کے سانحہ ارتحال پر حیدر آباد کرناٹک شوشیل جاگرتی فورم گلبرگہ کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس ۔بتاریخ 2؍جنوری 2021؁ء کو بمقام التمش گیسٹ ہاوئز گلبرگہ میں منعقد ہوا۔جناب منظور وقارکنوینر سوشئیل جاگرتی فورم کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی نگرانی سراج وجہیہ تیرانداز نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر غضنفر اقبال نے شرکت فرمائی ۔اجلاس کی ابتداء میں منظور وقار نے حاضرین محفل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا شمس الرحمن فاروقی عالمی شہرت یا فتہ قلمار تھے انہوں نے اردو ادب کو جدید فکر وآہنگ اور جدیدطرز تحریر سے ہم آہنگ کرنے میں اہم رول ادا کیا گلبرگہ میں شمس الرحمن فاروقی کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے خصوصا ڈاکٹر انیس صدیقی نے شمس الرحمن فاروقی کی تصانیف اور تحریروں پر جو تحقیقی اور تنقیدی کا م کیا ہے ۔ وہ قابل تحسین ہے ۔ منظور وقار نے حضرت سید عارف حُسینی کو ایک بے باک اور بلند ہمت انسان قرار دیا ۔مہمان خصوصی ڈاکٹر غضنفر اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا شمس الرحمن فاروقی عالمی شہرت یافتہ ادیب نقاد صحافی اور شاعر ہی نہیں ایک افسر اعلیٰ بھی تھے ۔ 1960میںانہوں نے ایک رحجان ساز رسالہ شب خون جاری کرکے ادبی دُنیا میں ایک انقلاب برپا کیا تھا شب خون کے چالیس سالہ اشاعت کے دوران شب خون کے 212شمارے شائع ہوئے چالیس برسوں پر محیط ایک ضخیم انتخاب بھی شائع کیا شمس الرحمن فاروقی سرسید احمد خان سے بے حد متاثر تھے گلبرگہ کے ممتاز قلمکار اورمحقیق ڈاکٹر انیس صدیقی نے شمس الرحمن فاروقی کے فن شخصیت اور تصانیف پر کوئی پانچ کتابیں مرتب کر چکے ہیں شب خوب کا چالیس سالہ انتخاب کا اشاریہ ڈاکٹر انیس صدیقی کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے ۔ڈاکٹر غضنفر اقبال نے حضرت سید عارف حُسینی کو بہترین تنظیمی صلاحیتوں کی شخصیت قرار دیااور کہا کہ ان کی مہمان نوازی بھی مثالی تھی ۔ سید سجاد علی شاد نے سید عارف حُسینی اور شمس الرحمن فاروقی کو اپنی تعزیتی نظموں سے خراج عقیدت پیش کیا ۔ ڈاکٹر عبدالکریم نے کہاہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہر انسان کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے لیکن شمس الرحمن فاروقی اور سید عارف حُسینی کا سانحہ ارتحال ناقابل فراموش ہے ۔ ساجد علی رنجولوی ( صدر حیدر آباد کرناٹک شوشیل جاگرتی فورم گلبرگہ )نے کہا کہ عارف اللہ حُسینی خانوادہ بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ کی آن بان شان تھے وہ ایک بے باک اور بے خوف انسان تھے ۔ انہیں دیکھ کر شر پسند عناصر گھبراتے تھے ساجد علی رنجولوی نے شمس الرحمن فاروقی کو ایک عظیم قلمکار اور ہمہ ججہت فن کار قرار دیا ۔اجلاس کے آخر میں نگران کا رجلسہ سراج وجہیہ تیر انداز نے اپنے اظہار خیال میں کہا شمس الرحمن فاروقی اپنے ہم عصر نقادان ادب کلیم الدین احمد ، پروفیسر گوپی چند نارنگ ، قمر رائس اور احتشام حُسین کے درمیان اپنی ایک انفرادیت رکھتے تھے ۔شمس الرحمن فاروقی کے مضامین اور کتابیں ادبی حلقوں میں نہ صرف شوق سے پڑھی جاتی تھیں ۔ موضوع بحث بھی بن جاتی تھیں ۔انہوں نے اردو ادب اور اردو افسانے کو تشہیری ادب اورمقصدی ادب کے چنگل سے آزاد کیا ۔ سراج وجہیہ نے عارف اللہ حُسینی کو ایک بردبار انسان اور قابل احترام شخصیت قرار دیا اور انہیں بھر پور خراج عقیدت پیش کیا ڈاکٹر چند احُسینی اکبر نے شمس الرحمن فاروقی اورعارف اللہ حُسینی کی خدمات کی ستا ئش کرتے ہوئے نظامت کے فرائض بہ حُسن خوبی چلائی ۔ اور شکریہ ادا کیا اجلاس میں بابا فخر الدین ، محمد صادق علی ، عبد السلیم انجینئر (مالک التمس گیسٹ ہاوز ) مودین پٹیل انبی ،محمد جیلانی اور دیگر موجود تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close