ہندوستان اردو ٹائمز

بنگلور : ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ہمیں سماجی و ملی خدمات کی طرف بھی توجہ دینی چائیے – مہر افروز

ملی و سماجی خدمات کے توسط سے پورے ریاستِ کرناٹک کی خواتین کی نمائندگی کا نام مہر افروز ہے - سید عرفان اللہ

بنگلور (ہندوستان اردو ٹائمز) بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات مہر افروز کے ساتھ ‘‘ بروز ہفتہ 28 نومبر 2020 فیس بک آن لائن لنک www.facebook.com/smirfanulla پر ایک ملاقاتی نشست شب 8: 00 بجے منعقد ہوئی ۔ ’’ محترمہ مہر افروز صاحبہ ایسی ادیبہ اور شاعرہ ہیں جو اردو زبان کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک اور قوم کے معذور بچوں کی تربیت پر کام کر رہی ہیں اور اسی سلسلہ کی کڑی آپ نے ڈوکیومنڑی فلمیں بھی بنائی ہیں۔ ملی و سماجی خدمات کے توسط سے پورے ریاستِ کرناٹک کی خواتین کی نمائندگی کا نام مہر افروز ہے ‘‘ سید عرفان اللہ ، سرپرست، بزمِ امیدِ فردا نے یوں تاثرات کا اظہار کیا۔ آگے فرمایا کہ ’’پروگرام کرنا کوئی کمال نہیں لیکن ادبی اشخاص اور سامعین کا پروگرام میں برابر ساتھ دینا یہ حسنِ کمال ہے۔ اور بزمِ امیدِ فردا کے ہر پروگرام کو اردو اخبارات جو جگہ دیتے ہیں یہ بھی ادبی خدمات کا اعلیٰ ثبوت ہے اور ہمیں اسی سے حوصلہ بھی ملتا ہے۔‘‘ آگے عرفان اللہ نے کہا کہ ’’ مہر افروز ، ڈاکٹر فریدہ رحمت اللہ ، ریشمہ طلعت شبنم ، نسم خانم صبا اور دیگر نسوان پر ہمیں فخر ہونا چائیے اور نئی نسل کے لئے آپ لوگ یقینا مثلِ راہ ثابت ہوں گے یہ امید کرتا ہوں‘‘۔ یقینا پروگرام کا آغاز مولانا مجاہد احمد عمری کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوا اور محترمہ مہر افروز کے نعتیہ کلام کو مولانا زاہد حسن اور جواں سال بی بی سمیہ نے اپنے مخصوص لب و لہجہ میں پیش کیا۔ جناب عبدالعزیز داغ بطور مہمان شامل رہے۔ یہ پروگرام پوری طرح آن لائن رہا۔ محترمہ مہر افروز صاحبہ دھارواڑ سے اور دیگر معاونِ بزمِ امیدِ فردا بنگلور سے اپنے اپنے علاقوں سے لائیو رہے۔ مہر افروز صاحبہ نے دورانِ گفتگو فرمایا ’’ چوں کہ میں نے بچیوں کی نفسایات پر یم ایڈ کیا ہے اور مجھے اس فلیڈ میں کافی مہارت حاصل ہوئی ہے۔ میں نے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معذور بچوں کی طرف اپنا زیادہ دھیان دیا ہے۔ مجھے بچیوں کے فون آتے تھے اور وہ مجھے اپنے مسئلہ بتاتے اور میں ان کا حل نکال نے کی کوشش کرتی اسی دوران میں ایسے علاقوں میں پہنچی جہاں مسلمان لڑکیاں جسم فروشی کرتی تھیں۔ میں نے یہاں سے ان پر بھی محنت کرنا شروع کیا اور الحمد اللہ کئی لڑکیوں کی زندگیاں اب راہِ راست پر ہیں اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گذار رہی ہیں‘‘ ۔ ادبی سفر کے تعلق سے فرمایا کہ ’’ میری پہلی کتاب کا رسمِ اجراء ڈاکٹر قدیر ناظم سرگروہ صاحب کے ہاتھوں عمل میں آیا اور میں نے مشاعرہ بھی ڈاکٹر صاحب کے اسرار پر ہی پڑھنا شروع کیا ۔ وہ کہتے تھے اگر لکھتی ہو تو پڑھنا بھی شروع کرو۔ اور میں نے جتنے بھی مشاعرے پڑھی ہوں وہ صرف کرناٹک اردو اکادمی کے ہی پڑھی ہوں اور میں ڈاکٹر صاحب ، مبین منور صاحب اور عرفان اللہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مجھے اتنی ہمت دی ہے۔ ‘‘ پروگرام کی نظامت محترمہ صبا انجم عاشی نے منفرد انداز میں پیش کیا۔ سید عرفان اللہ قادری، سرپرست، بزمِ امیدِ فردا نے تمام حاضرین و ناظرین کا شکریہ ادا کیا اوراسی کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔