بنگلور

بنگلور : برے وقت اور کسی کے احسان کو بالکل نہیں بھولنا چاہئیے – فیاض شکیب

فیاض شکیب جیسی شخصیت ایک ادبی کائنات ہے اور کائنات کا احاطہ ایک ہی سفر میں ممکن نہیں - سید عرفان اللہ

بنگلور : بروز ہفتہ 21 نومبر 2020 (نمائندہ ) فیس بک پیج www.facebook.com/smirfanulla پر شب 8 بجے کرناٹک کے معتبر و معروف شاعر جناب ’’ فیاض شکیب ‘‘ کے ساتھ ایک ملاقات کابہت ہی کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس ملاقاتی نشست کی ابتدا مولانا زاہد حسن اظہر دانشؔ کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوا ۔ جناب فیاض شکیب کا حمدیہ کلام جناب عبدالوہاب سردار دانشؔ نے پیش کیا اور فیاض شکیب صاحب کے نعتیہ کلام جواں سال نعت خواں حافظ سید تبریز بنگلوری اور جواں سال شاعر شفیق الزماں نے اپنے بہترین لب و لہجہ میں پیش کیا۔جناب فیاض قریشی، جناب اکمل خان سماجی کارکن یم یس پالیہ، جناب افسر پاشاہ افسر، جناب سمیر خان وقف بورڈ بنگلور اورنوبل نیوز چینل سے سہیل صاحب اور شکیب جوہر بطور مہمانانِ شامل رہے۔

سید عرفان اللہ ، سرپرست و بانی ، بزمِ امیدِ فردا نے تمام مہمانان و سامعین کا استقبال کیا۔ دورانِ گفتگو جناب فیاض شکیب نے اپنے آبائی وطن اونگ آباد سے چن پٹن اور پھر حالتِ زندگی کے نسیب و فراض سے ہوتے ہوئے خلیجی ممالک میں برسرِ روزگارتک کا سفر تسلسل کے ساتھ بیان فرمایا۔ آپ نے اپنے ملاقاتی نشست میں فریاما ’’ حسن علی خان حسن اور ریاض احمد خمار کو صرف ترنم کے لئے بالخصوص مشاعروں میں دعوت دی جاتی تھی اور یہ خود کفیل شاعر تھے انکے کوئی استاد نہیں تھے۔ ‘‘ آپ نے ماضی میں گذرے ہوئے فاقہ کش دنوں کو بھی بہت یاد کیا اور اپنے اس دور کے ساتھیوں کوبہت یاد فرمایا جو گلزارِ ادب کے ماہانہ مشاعروں میں شرکت فرمایا کرتے تھے جس میں بالخصوص امیر احمد طرار مرحوم، حضرتِ اُمی مرحوم ، ریاض احمد خمار، ندیم فاروقی ، حسن علی خان حسن اور برہان الدین ذوق۔ ’’برے وقت کو نہیں بھولنا چاہئیے اور خاص کر کسی کے احسان کو تو بالکل نہیں بھولنا چاہئیے‘‘ اپنے برے دور کے احسان مند دوستوں کا ذکر ِ خیر کرتے ہوئے جناب فیاض شکیب صاحب کئی بار جذباتی بھی ہوتے رہے اور آپ نے اپنے دوست ڈاکٹر ابو ذر احمد مرحوم کو کافی یاد کیا۔ فیاض شکیب صاحب کی داستانِ زندگی سنتے وقت نشست میں کئی بار موجود سامعین کی آنکھ نم ہوتی رہی اور اور آن لائن سامعین اداس ایموجی کے ذریعہ اپنے دکھ کا اظہار کرتے رہے۔ نوجوان شاعر و ناظمِ مشاعرہ عبدالعزیز داغ کے تعلق سے آپ نے اپنے تاثرات میں فرمایا کہ ’’عزیز داغ جیسے شاگرد پر ہر استاد کو فخر محسوس ہوتا ہے۔ آپ نے ثناء اللہ چراغ کے نام کو جو روشن کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ ورنہ کئی شاگرد شعراء اپنے استاد کا نام لینے تک ہچکتے ہیں، استاد کی تعریف اور انکا اعتراف بہت دور کی بہت ہے۔ ‘‘

بزمِ امیدِ فردا کی کاوشوں اور بزمِ کے سرپرست سید عرفان اللہ کے تعلق سے فرمایا ’’ خادمِ اردو سید عرفان اللہ قادری جو مبتدی نوجوان کے ساتھ ساتھ میرے جیسے بوڑھے طوطے کو بھی کھینچ لاتے ہیں۔ واقعی عرفان اللہ کے بہت سے کارنامہ ادبی دنیا میں باعثِ فخر ہیں اگر زندگی نے ساتھ دیا تو میرے قلم سے عنقریب عرفان اللہ کے خدمات پر ایک مقالہ اخبارات کی ذینت بننے والا ہے ۔ ‘‘ سید عرفان اللہ قادری، سرپرست، بزمِ امیدِ فردا نے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے اپنے تاثرات میں کہا کہ ’’ جناب فیاض شکیب صاحب جیسے شخصیت سے صرف ایک ملاقت میں ہی تشنگی نہیں مٹتی ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ آپ سے ایک اور ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔ آپ جیسی شخصیت ایک ادبی کائنات ہے اور کائنات کا احاطہ ایک ہی سفر میں ممکن نہیں۔ میں آپ جیسی کوشش اور محنت تو نہیں کر سکتا مگر مجھے خوشی ہے کہ میں آپ جیسے اشخاص کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں‘‘۔ نشست کی برخاستگی سے پہلے جناب فیاض شکیب صاحب کی زبانی ان کے کچھ کلام کو سنا گیا اور پھر آپ کے کلام کو زاہد حسن، حافظ سید تبریز اور شفیق الزماں نے ترنم میں پیش کیا اورپھر پی یو سی کی سال اول کی طالبہ بی بی سمیہ نے بھی ترنم میں ایک کلام پیش کیا اوراسی کے ساتھ نشست کے اختتام کا اعلان ہوا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close