بنگلور

بنگلور: کورٹ کے حکم کے بعدعیدگاہ میں منایا جا رہا ہے گنیش چترتھی اُتسو

ہبلی؍بنگلور، 31اگست ( ہندوستان اردو ٹائمز ) ہبلی دھارواڑ کے عیدگاہ میدان میں گنپتی کی مورتی اس وقت نصب کی گئی جب کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کی رات دیر گئے ایک حکم میں گنیش چترتھی کے جشن کی اجازت دینے کے حکام کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد کل رات سے تیاریاں عروج پر نظر آئیں۔تقریب کے منتظمین کے مطابق پوجا اگلے تین دن تک روایتی انداز میں ہوگی۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے مانگی گئی عبوری ریلیف کی عرضی مناسب نہیں ہے۔ اسے خارج کر دیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عرضی گزار سپریم کورٹ کے عبوری حکم سے فائدہ حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہے۔کچھ ہندو تنظیموں نے مذکورہ جائیداد پر گنیش کی مورتیاں لگانے اور ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے درخواست دی تھی۔ دھارواڑ میونسپل کمشنر نے گنیش چترتھی کے تہوار کو کچھ شرائط کے تحت منانے کی اجازت دی تھی۔

خیال رہے کہ حکام کے اس فیصلے کو انجمن اسلام نے کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔وہیں کرناٹک پولیس نے بدھ کے روز متنازعہ مقام پرگنیش چترتھی کی تقریبات کی اجازت نہ دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بنگلورو کے عیدگاہ میدان احاطے میں تقریباً 1500 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا۔ اہلکاروں میں 21 اے سی پیز، 47 انسپکٹرز، 130 سب انسپکٹرز، 126 اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور 900 کانسٹیبل شامل ہیں، جن کی نگرانی ڈی سی پی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوارواقعے سے بچنے کیلیے ریپڈ ایکشن فورس(RAF) کے 120 اہلکار ، کرناٹک اسٹیٹ ریزرو پولیس(KSRP) کی 10 پلاٹون بھی تعینات کی گئی ہیں۔

پولیس نے پہلے ہی علاقے میں شرپسندوں کو حراست میں لے لیا ہے اور فلیگ مارچ اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی ہیں۔دریں اثنا، چامراج نگر ناگرک منچ گنیش اتسو منانے کی اجازت پر زور دے رہا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرے گا۔ فورم کے صدر رام گوڑا نے کہا کہ تنظیم اپنی قانونی جنگ جاری رکھے گی اور آنے والے دنوں میں اسے جیتنے کا یقین ہے۔پولیس نے ہبلی شہر کے عیدگاہ میدان میں بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں، جہاں کرناٹک ہائی کورٹ نے گنیش اتسو کی تقریبات کی اجازت دی ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button