بنگال

بنگال بی جے پی میں افراتفری، 33 اراکین اسمبلی ترنمول کا دامن تھامنے کو بے قرار

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے قبل ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے کئی لیڈران یکے بعد دیگرے بی جے پی میں چلے گئے تھے، اور اب جب کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ایک بار پھر ترنمول حکومت بنگال میں تشکیل پا چکی ہے، تو بی جے پی کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلے تو ترنمول کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے کئی ایسے لیڈران جو اسمبلی انتخاب میں ہار گئے، گھر واپسی کا ارادہ ظاہر کرنا شروع کر دیا، اور اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ بی جے پی کے تقریباً تین درجن اراکین اسمبلی ترنمول کانگریس کا دامن تھامنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’جن ستّا‘ پر شائع ایک رپورٹ میں میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بنگال میں بی جے پی کے ایک یا دو نہیں بلکہ 33 اراکین اسمبلی ایسے ہیں جو دوبارہ ترنمول کانگریس میں واپس جانا چاہتے ہیں۔ دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے کے بیٹے سبھرانشو بھی ترنمول میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ حالانکہ بی جے پی اسے افواہ ٹھہرا رہی ہے، لیکن سبھرانشو کے تیور جس طرح بدلے ہوئے نظر آ رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں ترنمول کانگریس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بی جے پی میں چلے گئے ترنمول کانگریس کے لوگوں کی واپسی پر جلد کوئی فیصلہ لیں گی۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پارٹی بہت چنندہ لیڈروں کی واپسی قبول کرے گی تاکہ 2024 کے لوک سبھا الیکشن سے قبل پارٹی کارکنان کو پیغام دیا جا سکے کہ بغاوت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ترنمول کانگریس کے ایک لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی گزارش کے ساتھ کہا کہ ’’اس معاملے میں اعلیٰ قیادت ہی آخری فیصلہ لے گی۔ اس وقت ہم کووڈ-19 وبا سے نبرد آزما ہیں اور گردابی طوفان یاس کے بعد راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں۔‘‘

یہاں قابل ذکر ہے کہ بی جے پی لیڈر دیپیندو بسواس اور سونالی گوہا سمیت کئی سابق اراکین اسمبلی گزشتہ کچھ دنوں میں خط لکھ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے معافی مانگ چکے ہیں۔ انھوں نے ترنمول کانگریس میں واپسی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ایک وقت ممتا بنرجی کی قریبی رہیں سونالی نے تو وزیر اعلیٰ سے معافی مانگتے ہوئے کیمرے پر بھی جذباتی اپیل کی اور کہا کہ انھیں واپس پارٹی میں شامل کر لیا جائے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ترنمول کانگریس کے بانیوں میں شامل رہے مکل رائے کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ وہ بی جے پی چھوڑ کر گھر واپسی کر سکتے ہیں۔ مکل رائے اس وقت بی جے پی کی طرف سے راجیہ سبھا رکن ہیں، اور اگر انھوں نے ترنمول کانگریس میں واپسی کی تو یہ بی جے پی کے لیے زوردار جھٹکا ہوگا۔

بہر حال، کولکاتا ریسرچ گروپ کے رکن اور مشہور و معروف سیاسی تجزیہ نگار رجت رائے کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کچھ بڑے بی جے پی لیڈروں کو ترنمول میں واپسی کا موقع دے سکتی ہیں اور اس کا مقصد تنظیمی سطح پر بی جے پی کو کمزور کرنا ہوگا۔ لیکن وہ سبھی لیڈروں کی ایک ساتھ گھر واپسی نہیں کرائیں گی کیونکہ وہ بغاوت کرنے والوں کو ایک سخت پیغام بھی دینا چاہیں گی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close