بنگال

بنگال میں بی جے پی رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پر بم پھینکے گئے، پارٹی نے ترنمول کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا

بنگال ،08؍ ستمبر (ہندوستان اردو ٹائمز) کولکاتہ میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کی رہائش گاہ پر منگل کی رات بم دھماکہ ہوا۔ اس سے ایک بار پھر مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کا معاملہ گرم ہوگیا ہے۔ بھوانی پور اسمبلی ضمنی انتخاب سے پہلے اس واقعہ سے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان زبانی جنگ بڑھ سکتی ہے۔ پارٹی نے اس حملے کے لیے ٹی ایم سی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ لیکن ترنمول کانگریس نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

بنگال کے گورنر جگدیپ دھن کھڑ نے اس حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کولکاتہ کے قریب جگتال علاقے میں ارجن سنگھ کی رہائش گاہ پر تین بم پھینکے گئے۔ لوہے کے گیٹ پر بم دھماکہ کے نشانات واضح طور پر دکھائی دئیے ، حالانکہ اس واقعے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ بنگال بی جے پی یونٹ کے صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ حملہ آور غالبا حکمران ترنمول کانگریس سے تعلق رکھتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح تقریبا 6.30 بجے تین نوجوان موٹر سائیکل پر آئے اور کلکتہ سے 100 کلومیٹر دور جگت دال میں ارجن سنگھ کی رہائش گاہ پر بم پھینکے۔ اس واقعے سے متعلق ویڈیو میں رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پر بم کے نشانات دکھائی دئیے ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ واقعے کے وقت گھر پر نہیں تھے ، وہ اس وقت دہلی میں ہیں۔ لیکن انہوں نے اس واقعہ کے حوالے سے کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔

ارجن سنگھ کی بدھ کی شام تک کولکاتہ واپسی متوقع ہے۔ مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھن کھڑ نے ریاست میں مسلسل تشدد کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔گورنر نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس حملے کے بعد بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان سیاسی کشیدگی میں شدت آنے کی توقع ہے۔ بنگال کی بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی یہ معاملہ اٹھ سکتا ہے۔ یہاں سے ٹی ایم سی سے چیف منسٹر ممتا بنرجی امیدوار ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close