بنگلور

بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات شفیق عابدی کے ساتھ‘‘ کا کامیاب انعقاد، استاد شعراء کو چائیے کے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں – شفیق عابدی

بنگلور (ہندوستان اردو ٹائمز) بزمِ امیدِ فردا کے زیر اہتمام بروز ہفتہ 9 اکتوبر 2021 رات 8:30 بجے فیس بک آن لائن لنک www.facebook.com/smirfanulla پر ’’ایک ملاقات شفیق عابدی کے ساتھ‘‘ کا بہت ہی کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس ملاقاتی نشست کا آغاز سید عرفان اللہ کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوا ۔ نعت کا نظرانہ محترمہ صبا انجم عاشی نے پیش کیا۔ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیدعرفان اللہ، سرپرست، بزمِ امیدِ فردا نے وضاحت کی کہ آج سے ایک سال قبل ہم نے ملاقاتی نشستوںکے انعقاد کا آغاز جناب شفیق عابدی صاحب سے کیا تھا۔ دورانِ گفتگو جناب شفیق عابدی نے اپنے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کئی ڈرامہ ، اسکرین پلے اور ٹلی فلمز وغیرہ تحریر کئے ہیں۔ انہوں نے روزنامہ پاسبان کی اپنی خدمات کو یاد کیا اور پاسبان کے مشاعروں میں اپنی نظامت اور تجربات کا کھل کر ذکر کیا۔ آپ نے جناب عبید اللہ شریف اور جناب مبین منور سے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور راز امتیاز، اسد اعجاز و دیگر استاد شعراء کے تعاون کو یاد کیا۔ ایک سوال کے جواب میں شفیق عابدی نے اعتراف کیا کہ ناظم کبھی کبھی شعراء کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کر تے ہیں اور یہ ناظم کی اپنی مجبوری ہوتی ہے۔ آپ نے شاعری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دل کے احساس کی ترجمانی کو اوراق پر قلم بند کرنے کا نام شاعری ہے۔اسی طرح اپنی بتایا آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مشاعرے کی شاعری اور ادب کی شاعری میں بہت فرق ہے اسی طرح حقیقی اور بیانہ شاعری میں بھی فرق ہے ۔ آپ نے کہا کہ استاد اور شاگرد کا زمانہ اب نہیں رہا۔ بلکہ ہر آنے والا شاعر خود کو استاد تسلیم کرتے ہوئے مشاعرہ میں شریک ہوتا ہے پھر چاہے وہ اسٹیج کا مشاعرہ ہو یا آن لائن کسی ایپ کا مشاعرہ۔ آپ نے استاد شعراء کو آواز دی کہ نئے لکھنے والوں کی دل کھول کر پذرائی کیا کریں نہ کہ اسٹیج یا محفل میں ہی اس پر نکتہ چینی یا بحث کریں بلکہ انہیں انفرادی بلاکر اور اچھے طرح سے سمجھائیں کہ کہاں کیا فرق ہے اور کس لئے ان کا کلام معیاری یا غیر معیاری ہے۔ آپ نے خلیل مامون سے لے کر مبین منور تک کے صدور کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ اپنے تجربات ناظرین کے روبرو بے باکی کے ساتھ بیان کیا۔ شفیق عابدی نے محترمہ صبا انجم عاشی کی نظامت کی تعریف کی اور مشورہ دیا کے اردو زبان بہت میٹھی اور پیاری ہے اس لئے صبا صاحبہ مطالعہ کریں تاکہ انکی نظامت میں چار چاند لگ جائیں۔ ناظرین کے ہر سوال کا جواب شفیق عابدی نے بہت ہی آسان زبان اور وضاحت کے ساتھ دیا اور خوب داد و تحسین بھی حاصل کی۔ دورانِ گفتگو شفیق صاحب سے ان کے کلام کی فرمائش بھی کی گئی اور ناظرین نے بہت داد دی۔ناظرین میں ہندوستان کے علاوہ دبئی، لندن، امریکہ، جاپان، سعودی ارب سے بھی کئی احباب آن لائن جڑے تھے ۔ سید عرفان اللہ کے ہدیہ تشکر کے ساتھ خوبصورت نشست کے اختتام کا اعلان ہوا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close