مضامین و مقالات

بدلے گا سیمانچل، بڑھے گاسیمانچل۔ قسط دوم ۔ محمد زکریا القاسمی

*بدلے گا سیمانچل، بڑھے گاسیمانچل*
(کٹیہار ودیگر اضلاع والوں کے لئے     کچھ جھروکے) 
قسط دوم 
آج ہماری معتبر مذہبی تحریکیں، علماء و مشائخ اور پیر خانے اپنے آپ کو سیاست سے الگ کر کے بیٹھ گئے ہیں اور اپنے اوپر لیبل چسپاں کر دیا کہ ہم غیر سیاسی ہیں ، ہمارا سیاست سے کسی قسم کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ ارے محترم ! دین سیاست سے کب جدا ہے؟اگر تم دین کو سیاست سے الگ تھلک کر کے بیٹھ جاؤ گے تو وہ ظلم و جبر ، لوٹ گھسوٹ ، ناانصافی، بے اعتدالی و بد عنوانی کے سوا کچھ نہیں رہے گی ، اور یہ خونخوار معاشی درندے آزاد اور وحشی ہو جائیں گے اور اپنی من مانیاں کرتے پھریں گے اور معاشرہ کو گمراہی و ضلالت کی تاریکیوں میں لے ڈوبیں گے جیسا کہ آج ہے۔اوپر چند سو لوگ ہیں اور نیچے کروڑوں کی عوام ہے ۔ اگر آپ اوپر چند سو کو قابو کر لو گے تو کروڑوں کو قابو کرنا آسان ہے۔ اگر یہ چند سو سدھر جائیں اور دینی اصولوں کے مطابق چلیں اور اس کے مطابق قوانین ترتیب دیں تو معاشرہ کو سدھارنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ سیاست سے دور رہ کر علماء ارب ہا کوششیں کر لیں وہ معاشرہ کی اصلاح نہیں کر سکتے۔ اگر تم حکمرانوں پر چڑھ کے نہیں رہو گے اور لگام اپنے ہاتھوں میں نہیں لو گے تو معاشرہ کو برائیوں سے کیسے بچا پاؤ گے؟ جب تک ضلالت و گمراہی کے مراکز ، معاشرتی تباہ کاریوں اور بد اخلاقیوں پر اوپر اعلیٰ سطح سے پابندی نہ لگے اور سخت قوانین نہ بنیں ، نیچے سے آپ لاکھ کوششیں کر لیں ان کو نہیں روک پائیں گے۔
*لہذا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ علماء کرام سیاست میں حصہ لیں اس سے نہ ڈریں کہ لوگ کیا کہیں گے لوگوں نےکس کو چھوڑا ہے اگر وہ کہیں گے نہیں تو تم کام کیسے کروگے لہذا کہنے والے کہتے رہیں تم اپنا کام کرو*
*کشن گنج والوں کو چاہیے کہ اخترالایمان صاحب کا بھرپور تعاون کریں*
*کٹیہار والوں سے درخواست ہے کہ ہمارے لئے یہ نعمت غیر مترقبہ ہے کہ ایک عالم دین جوکہ  خدائی نعمتوں سے لبریز اور ساری دنیاوی سہولیات کی دستیابی کے باوجود اپنے علاقے کا غم اسکوکھائے جارہا ہے*
*نوجوان عالم دین بے باک لیڈر ڈاکٹر مولانا منور حسین چترویدی کو ضرور کامیاب کریں*
*گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں**وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے*
ملخص محمد زکریا القاسمی
(جاری)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

2 Comments

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close