یوپی

بابری مسجد کیس: اڈوانی سمیت 32 ملزمان کی بریت کیخلاف ہوگی سماعت

لکھنؤ ، 18 جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ پیر کو آر ایس ایس کے لیڈروں بشمول ایل کے اڈوانی، اوما بھارتی، چمپت رائے، ونے کٹیار، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، سادھوی رتبھارا اور بی جے پی کے دیگر سینئر لیڈروں کو بابری مسجد معاملے میں بری کئے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کرے گی۔ یہ عرضی ایودھیا کے حاجی محبوب اور سید اخلاق نے 8 جنوری 2021 کو دائر کی تھی۔

دونوں کو بابری مسجد کے انہدام کے گواہ کے طور پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کا گھر مسجد سے متصل تھا۔ 6 دسمبر 1992 کو انہدام کے بعد ان کے گھروں پر حملہ کر کے جلا دیا گیا۔ لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے یکم اکتوبر 2020 کو بابری مسجد انہدام کے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ بری ہونے کے 100 دن بعد دونوں نے سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی۔

بابری مسجد انہدام کا مقدمہ 6 دسمبر 1992 کو درج کیا گیا تھا، جس میں مقدمے کی سماعت کے دوران 1,026 گواہوں اور 48 ملزمان کو درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران 16 ملزمان کی موت ہو گئی۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران مرنے والوں میں شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے، گورکھ ناتھ مٹھ کے سابق سربراہ مہنت اویدیا ناتھ، وشو ہندو پریشد کے سابق سربراہ وشنو ہری ڈالمیا، مہنت رام چندر داس پرمہنس، ایودھیا میں رام جنم بھومی نیاس کے سابق سربراہ اور وی ایچ پی لیڈر اشوک شنگھل شامل ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button