مضامین و مقالات

بابری مسجد! مولانا عبدالحمید نعمانی

بابری مسجد !
مولانا عبد الحمید نعمانی

بہت سے لوگوں کو مسجد کی زمین مندر کے لیے دے دینے اور مسجد، مندر کے تنازع پر کسی اتھارٹی کی نگرانی میں بات چیت کرنے میں کوئی فرق نہیں لگتا ہے،ایک صاحب کچھ دنوں سے پہلی بات کہتے رہے ہیں جب کہ معاملہ دوسرا ہے، جب آدمی کو مسئلے کا علم و شعور نہ ہو تو اس پر بولنا ہی نہیں چاہیے، ایسے نازک حالات میں، ہندستان جیسے ملک میں کچی باتیں کر کے معاملات خراب نہیں کرنا چاہیے، مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ صحیح کہتے تھے کہ بابری مسجد سرحد ہے اگر ہم نے خود اسے توڑ دیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، کل چینل پر ہندو مہا سبھا کا نمائندہ ان مساجد اور عمارتوں کی فہرست دکھا رہا تھا جن کو واپس لینا ہے کہ وہاں پہلے ہندو مندر تھے، ونے کٹیار بھی بابری مسجد کے بعد آگے کی بات کر رہے تھے،بہت سے لوگوں کا ہندوتو اور بھارت کے متعلق مطالعہ، بہت ناقص ہے، اور وہ روا روی میں ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے فرقہ پرستوں میں غلط امیدیں پیدا ہوتی ہیں، دعوٰی کو ثبوت مان لینا، بے دانشی کی بات ہے، رپورٹ بھی ثبوت نہیں ہوتی ہے، یہ ہم نے کل کئی چینلز پر کہا تھا، مندر فریق نے ابھی تک اپنے دعوے پر کوئی پختہ ثبوت نہیں دیا ہے، کل ایک سنگھ سے وابستہ پروفیسر اجودھیا کے متعلق کہہ رہے تھے کہ وہ صرف ہندؤں کی جگہ ہے، ہم نے کہا کہ اجودھیا ،ہندو، مسلم، بودھ، جین سب کی جگہ رہی ہے، یہ تاریخ ہے، اس کی تاریخ پر بہت لکھا گیا ہے، اس کے برعکس آپ دکھا دیں، ہندو دھرم شاستر میں ہی کوئی دکھا دے کہ ہندوتو وادیوں کے دعوے کے مطابق، اجودھیا اور رام مندر کا تصور ہے، وہ نہیں بتا سکے، ایک مہا منڈلیشور ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے، لیکن ہمارے سوال کا انہوں نے جواب نہیں دیا، اللہ کا کرم ہے کہ ہم بخاری، ہدایہ، وغیرہ کے ساتھ رامائن اور بنچ آف تھاٹس سے بھی طالب علمانہ واقفیت رکھتے ہیں، کوئی کچھ بھی کہہ کہ نکل نہیں سکتا ہے، بہت سے خطیب قسم کے لوگوں کو معلوم نہیں کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی اور ابن قدامہ حنبلی رح نے المغنی میں آگے کیا لکھا ہے،؟ مسجد کا تصور توحید اور مندر کا شرک پر قائم ہے، ہم دوسرے کی آزادی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اپنی آزادی کھو نہیں سکتے ہیں، توحید کی جگہ عمداً رضا سے شرک کے لیے کیسے دی جاسکتی ہے،؟ یہ مفاد عامہ کے واسطے ، سڑک بنانے کے لیے مسجد کی منتقلی کا معاملہ نہیں ہے، ایک بنیادی عقیدہ کو دوسرے متضاد بنیادی عقیدہ کی جگہ رکھنے کا سنگین معاملہ ہے، کوئی زبردستی کرے تو الگ بات ہے، لیکن رضا بالکفر والشرک بھی کفر و شرک کے زمرے آتی ہے، اسے ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔
9/3/2019

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close