دہلی

ایک ہی قسم کے الزام میں زبیر کو جیل ، نوپور کو حکومتی تحفظ قابل مذمت : ڈاکٹر آصف

پولیس کو متعصب نہیں ہونا چاہیے، بنیادی حق کا تحفظ اُن کا آئینی فرض ہے:آل انڈیا مائنارٹیز فرنٹ

نئی دہلی ،28جون (ہندوستان اردو ٹائمز) آل انڈیا مائنارٹیز فرنٹ کے صدر ڈاکٹر سید محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر آلٹ نیوز کے بانی صحافی محمد زبیر پر مذہبی جذبات بھڑکانے کا الزام ہے، توکوئی بتائے کہ نوپور شرما پر کون سا الزام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نوپور شرما کو اسی طرح کے الزامات پر وائی پلس سیکورٹی دی گئی ہے ،جبکہ محمد زبیر کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ڈاکٹر آصف نے کہا ہے کہ اگر دونوں کے خلاف ایک جیسے الزامات کو مان بھی لیں تب بھی محمد زبیر کی گرفتاری سراسر ناانصافی، ہراساں اور تشدد ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو دفعات نوپور شرما پر ہے، وہی دفعات محمد زبیر پر ہے، لیکن نام اور مذہب میں فرق ضرور ہے۔ ایک آزاد ہے، پولیس کی سیکورٹی میں ہے، جبکہ دوسرا جیل میں ہے۔ ڈاکٹر آصف نے کہا کہ نوپور شرما نفرت پھیلا رہی تھی اور محمد زبیر نفرت پھیلانے والوں کو بے نقاب کر تے ہیں،بس یہی فرق ان دونوں میں ہے۔جاری ایک بیان میں آل انڈیا مائنارٹیز فرنٹ کے صدر ڈاکٹر آصف نے کہا کہ حال ہی میں کارکن تیستا سیتلواڑ، سابق آئی پی ایس افسر بی آر سری کمار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ کے ساتھ مل کر ان دونوں نے گجرات فسادات (2002) کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو اس طرح گرفتار کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ایسا نہ ہو کہ موجودہ حکومت کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو اب اسے جیل کی ہواکھانی پڑے۔ڈاکٹر آصف نے بتایا کہ ملک میں پہلی ویب سائٹ آئی جس کا کام درست حقائق بتانا تھا۔ محمد زبیر اس کے تاسیسی رکن بنے۔ پرتیک سنہا ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ اس طرح آلٹ نیوز نے جنم لیا۔ بہت جلد آلٹ نیوز اور محمد زبیر نے ملک کے پہلے مستند فیکٹ چیکر کے طور پر شہرت حاصل کی۔ ٹائمز نا ؤ چینل پر نوپور شرما کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ تبصرے کو بے نقاب کرکے پوری دُنیا کے سامنے حقائق پیش کئے ۔ چینل کی اینکر نویکا کمار کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی گئی، لیکن زبیر کو گرفتار کر لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں محمد زبیر کی گرفتاری انتہائی قابل مذمت ہے۔ اُنہیں بغیر کسی اطلاع کے نامعلوم ایف آئی آر میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دہلی پولیس پر الزام لگایا کہ دہلی پولیس مسلم نسل کشی کے خلاف نعرے لگانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی ،بلکہ جرائم کی اطلاع دینے والوں کیخلاف کارروائی کرتی ہے، جو سراسر ’’مذاق‘‘ ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button