مضامین

ایک عدالت، دو فیصلے اور تین نتیجے… اعظم شہاب

زیادہ نہیں، محض 8 روز ہی گزرے ہیں کہ 24 جون کو سپریم کورٹ نے پردھان سیوک کو گجرات فساد سے متعلق کلین چیٹ دیتے ہوئے سماجی جہدکار تیستا سیتلواڈ پر کچھ اعتراض ظاہر کیا۔ یہ اعتراضات ان کے قانونی اورعدالتی عمل سے متعلق تھے جو نہ صرف ہر شہری کا بنیادی حق ہے بلکہ حصولِ انصاف کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ اس پر عمل سے نہ تو ملک کا آئین کسی کو روکتا ہے اور نہ ہی ملک کی عدالتِ عظمیٰ۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس اعتراض کے دوسرے روز یعنی 25 جون کو گجرات اے ٹی ایس ممبئی پہنچ کر تیستا سیتلواڈ کو ان کے گھر سے گرفتار کرلیا۔ حالانکہ یہ اعتراض اتنے سخت بھی نہیں تھے کہ ان کی فوری گرفتاری ناگزیر ہو جاتی، کیونکہ عدالت نے تیستا کے ایک قانونی عمل پر صرف اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن محض 24 گھنٹے کے اندر نہ صرف تیستا بلکہ ان کے ساتھ آر بی سری کمار کو بھی گرفتارکر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا گیا۔ یہ دنوں فی الوقت عدالتی حراست میں ہیں اور ان پر عائد الزامات کی تفتیش ایس آئی ٹی کر رہی ہے۔

اسی سپریم کورٹ نے تین روز قبل بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے خلاف بھی اعتراض ظاہر کیا۔ یہ اعتراض نہ تو تیستا کے اعتراض سے مماثلت رکھتے تھے اور نہ ہی کسی قانونی عمل کی بجا آوری سے متعلق تھے۔ یہ اعتراض راست طور پر ملک میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی سے متعلق تھا جس میں سپریم کورٹ نے نہایت سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف نوپورشرما کی عرضداشت خارج کر دی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں جو آگ لگی ہے، نفرت کا جو ماحول بنا ہوا ہے وہ سب نوپور شرما کے بیان کے برے اثرات ہیں۔ وہ سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے وہی ذمہ دار ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ کس قدر ناانصافی اور ناقابلِ برداشت ہے کہ نوپور شرما نے جس کے خلاف شکایت کی، اسے تو گرفتار کرلیا گیا، لیکن بیان دینے والی نوپور کو گرفتار نہیں کیا۔ وہ قانون کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتی ہیں نیز اپنے سیاسی مفاد کے حصول کے لیے انہوں نے لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی اس سخت تنقید کے باوجود نوپور شرما کو گرفتارتو کیا بلاکر تفتیش تک نہیں کی گئی۔

ایک ہی عدالت کے دو فیصلوں پر عمل کے ان دو نتیجوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اب ایک اور نتیجے پر نظر ڈال لیجئے۔ مشہور جرنلسٹ اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر پر تو کسی عدالت نے نہ تو تنقید کی اور نہ ہی ان کے کام کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ اس کے باوجود انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ان کی گرفتاری کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایک ٹوئٹر یوزر نے دہلی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے محمد زبیر پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ دہلی پولیس نے اس ٹوئٹ کی بنیاد پر محمد زبیرکے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ جبکہ محمد زبیر کے جس ٹوئٹ کی بنیاد پرایف آئی آر درج ہوئی وہ 2018 کا ہے اور شکایت کرنے والے نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ بھی ڈلیٹ کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے محمد زبیر کی گرفتاری پر روک تک لگا رکھی تھی، لیکن چونکہ نوپور شرما نے محمد زبیر پر الزام لگایا تھا اور پولیس کو 4 سال قبل کے ایک ٹوئٹ کا بہانہ مل گیا، اس لیے ان پر مذہبی جذبات بھڑکانے اور نفرت پھیلانے جیسی دفعات کے تحت معاملہ درج کرتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔

نوپور شرما نے ایک دن میں تین بار اہانت رسول ﷺ کرنے کی عظیم غلطی کی۔ اس کی حرکت کو محمد زبیر نے ساری دنیا تک پہنچایا۔ علماء نے اس کی مذمت کی اور عوام نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا لیکن حکومت خواب غفلت میں گرفتار رہی۔ اس کے بعد مسلم دنیا سے دباؤ آیا تو حکومت جاگی۔ بی جے پی نے نوپور شرما کو معطل کیا اور اس نے معافی کے نام پر اپنے الفاظ واپس لینے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد جب اقلیتی کمیشن نے سوال کیا کہ اس پر ایف آئی ائی آر کیوں نہیں درج کی جاتی؟ تو 31 لوگوں کے ساتھ اس پر ایف آئی آر درج ہوگئی جبکہ مہاراشٹر میں و مغربی بنگال میں بھی کچھ ایف آئی آردرج کرائی گئیں۔ اب سپریم کورٹ نے اسے پھٹکار لگائی اور اُدے پور کے واقعہ کی ذمہ داری اس پر ڈال دی۔ لیکن سپریم کورٹ کی اس پھٹکار اور ملک میں درج مختلف ایف آئی آر کے باوجود ابھی تک دہلی پولیس کی رگِ حمیت نہیں پھڑکی کہ اس ملعونہ کو گرفتار کرکے انصاف کا ثبوت پیش کرے۔ جس وقت نوپور شرما نے اہانت کی ذلیل حرکت کی تھی، اگر اسی وقت حکومت ہند اس کے خلاف قانونی کارروائی کر دیتی تو شاید وہ سپریم کورٹ کی اس سخت پھٹکار اور پہ در پہ رسوائی سے بچ جاتی، لیکن چونکہ مرکزی حکومت کی پوری توجہ مہاراشٹر میں آپریشن لوٹس پر تھی اس لیے سپریم کورٹ کی یہ پھٹکار اس کی مقدر ہوگئی۔

ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی والوں کو عدالتوں کے ذریعے ذلیل ہونے اور پھٹکار سننے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا کہ انہیں کسی نہ کسی عدالت سے زناٹے دار طمانچہ رسید نہ ہوتا ہو لیکن یہ اس قدر ڈھیٹ ہیں کہ ان پر اس کا کچھ اثر ہی نہیں ہوتا۔ ایک کہاوت ہے کہ ایک جوتے کھانے سے عزت جاتی نہیں اور سو جوتے کوئی مارتا نہیں۔ لیکن یہاں تو بی جے پی کے لیے یہ کہاوت بھی اپنی معنویت ختم کرچکی ہے۔ عدالتوں سے مسلسل ہزیمت اور ذلالت اٹھانے کے باوجود ان کے ہوش ٹھکانے نہیں آتے۔ یہاں سوال یہ کیا جاسکتا کہ نوپور شرما کے خلاف قانونی کارروائی میں بھلا مرکزی حکومت کا کیا عمل دخل ہوسکتا ہے؟ لیکن یہ سوال کرنے والے اگر اس حقیقت کو پیشِ نظررکھیں کہ دہلی پولیس راست طور پر ہمارے وزیر داخلہ شاہ صاحب کے زیر تحت ہیں تو یہ سوال ہی نہیں کریں گے۔ کیونکہ دہلی پولیس بغیر وزارت داخلہ کی ایماء پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتی اور بات جب بی جے پی سے متعلق نوپور شرما کی ہو تو سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ دہلی پولیس اپنے دم پر اس کے خلاف کوئی کارروائی کرسکے۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے ایک اعتراض کی بنیاد پر تیستا سیتلواڈ اور آر بی سری کمار کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا جاتا ہے اور یہ گرفتاری اس قدر سرعت کے ساتھ کی جاتی ہے گویا اگرخدانخواستہ تھوڑی دیر ہوگئی تو ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ دوسری جانب وہی سپریم کورٹ نوپور شرما کو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی کے لیے اسے ذمہ دار قرار دیتی ہے، ادئے پور کے واقعے کی ذمہ دار بھی اسے ہی گردانتی ہے لیکن عدالت کی اس سخت پھٹکار پر بھی نوپور شرما پولیس کی گرفت سے محفوظ رہتی ہے۔ وہیں تیسری جانب محمد زبیر جسے ہائی کورٹ سے راحت ملی ہوئی تھی، اس کو محض ٹوئٹر پر کی گئی ایک شکایت کی بنیاد پر گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا جاتا ہے۔ ایک عدالت کے دو فیصلے اور پولیس کے ذریعے اس پر عمل آوری کے یہ تین نتیجے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی دیش بھکت پارٹی کے چشمِ ابرو سے پولیس کے لیے انصاف کے پیمانے تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button