مدھیہ پردیش

ایم پی کے دموہ میں بارش کیلئے بچیوں کو گھمایا برہنہ ، جانیں پورا معاملہ

چلڈرن کمیشن نے کلکٹر سے 10 دنوں میں کارروائی کا دیا حکم

بھوپال ، 7ستمبر (ہندوستان اردو ٹائمز) ایم پی کے دموہ ضلع میں توہم پرستی کا ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں جبیرہ بلاک کے آدی باسی اکثریتی بنیا نامی گاؤں میں بارش نہ ہونے پر توہم پرستی اختیار کی گئی ۔اس میں خواتین اپنے ہی گھر کی لڑکیوں کو بے بغیر کپڑے گاؤں کی گلیوں میں گھمایا ۔خواتین کی ہندوانہ توہم پرستی کے مطابق ایسا کرنے سے اتنی بارش ہوتی ہے کہ ماتا(دیوی) کی مورتی کا گوبر دھل جاتا ہے۔

واضح ہو کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد قومی تحفظ حقوق اطفال کمیشن نے کلکٹر ایس کرشنا چتنیاکو نوٹس جاری کرکے کہا کہ 10 دن کے اندر کارروائی کرکے اپنی رپورٹ پیش کریں ۔کمیشن نے کلکٹر سے بچیوں کی عمر کا سرٹیفکیٹ ، تحقیقاتی رپورٹ اور دیگر دستاویزات طلب کی ہیں۔اطلاع کے مطابق بنیا نامی گاؤں کے لوگ کم بارش سے پریشان ہیں۔ گزشتہ اتوار کی صبح گاؤں کی خواتین جمع ہوئیں، اور 3 سے 4 سال کی بچیوں کو برہنہ کرکے انہیں پورے گاؤں میں چکر گھمایا،دیگر ہندوانہ اور توہم پرستی پر مبنی رسومات انجام دیئے گئے ،بعدازاں گاؤں کی خواتین نے مندر میں بھجن کیرتن کیا، یہاں ایک بھنڈارا کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

جنگلاتی کمیٹی کے صدر پون سنگھ نے کہا کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں متاثر ہوئی ہیں، لوگ پانی کے لیے پریشان ہیں ، اس لیے گاؤں کی خواتین نے ٹوٹکا کیا ہے ، ایسا کرنالا ان کے آستھا اور یقین سے جڑا معاملہ ہے ۔ اس ٹوٹکے سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا ہے، یہ ایک مذہبی عمل ہے۔تاہم تحفظ حقوق اطفال کمیشن نے اس سلسلے میں ضلعی کلکٹر کو کاروائی کرنے کے ساتھ تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close