بین الاقوامی

ایساملک جہاں سے کوئی بھی مسلم سفر حج پر نہیں جا سکے گا

کولمبو۔ سری لنکا کو آزادی کے بعد بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ مہندا راجا پاکسے کی جگہ وزیر اعظم بننے والے رانیل وکرما سنگھے ملک کو اس مشکل وقت سے نکالنے کے لیے مسلسل کئی بڑے فیصلے لے رہے ہیں۔ خود سری لنکا کے شہری بھی اس برے مرحلے سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں سری لنکا کے مسلمانوں نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہاں کے مسلم عوام نے ملک میں معاشی بحران کے پیش نظر اس سال حج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2022 کے لیے سری لنکا سے 1585 عازمین حج کے کوٹے کی منظوری دی تھی۔ تاہم، نیشنل حج کمیٹی، سری لنکا حج ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن اور مسلم مذہبی اور ثقافتی امور کے محکمے سمیت کئی دیگر جماعتوں کی بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سری لنکا سے کوئی بھی مسلمان اس بار حج نہیں کرے گا۔

موجودہ حالات ٹھیک نہیں اس لیے نہیں جائیں گے۔

آل سیلون حج ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن اور حج ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف سری لنکا کی طرف سے محکمہ مسلم مذہبی اور ثقافتی امور کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے ملک سری لنکا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور عوام کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے دونوں ایسوسی ایشن کے ممبران نے اس سال حج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے اس سال سری لنکا سے کوئی مسلمان حج پر نہیں جائے گا۔

ملک کو ہے غیر ملکی کرنسی کی ضرورت
اس سب کے درمیان حج ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر رزمی ریال نے کہا کہ ملک کو اس وقت ڈالر کے سنگین بحران کا سامنا ہے، ملک کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ  غیر ملکی کرنسی کی ضرورت  ہے۔ ایسے میں ہم سب نے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس بار سری لنکا سے کوئی بھی حج پر نہیں جائے گا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button